رضی اﷲ تعالیٰ عنہ جب اپنا نصف مال لے کر بارگاہ اقدس میں چلے تو اپنے دل میں یہ خیال کرکے چلے تھے کہ آج میں حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سبقت لے جاؤں گا کیونکہ اس دن کا شانۂ فاروق میں اتفاق سے بہت زیادہ مال تھا۔ حضور اقدس صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے حضرت عمر فاروق رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے دریافت فرمایا کہ اے عمر!کتنا مال یہاں لائے اور کس قدر گھر پر چھوڑا؟ عرض کیا کہ یا رسول اﷲ! (صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم) آدھا مال حاضر خدمت ہے اور آدھا مال اہل و عیال کے لئے گھر میں چھوڑ دیا ہے اور جب یہی سوال اپنے یارغار حضرت صدیق اکبر رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے کیا تو انہوں نے عرض کیا کہ ''اِدَّخَرْتُ اللہَ وَرَسُوْلَہٗ'' میں نے اﷲ اور اس کے رسول کو اپنے گھر کا ذخیرہ بنا دیا ہے۔ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ مَا بَیْنَکُمَا مَا بَیْنَ کَلِمَتَیْکُمَا تم دونوں میں اتنا ہی فرق ہے جتنا تم دونوں کے کلاموں میں فرق ہے۔
حضرت عثمان غنی رضی اﷲ تعالیٰ عنہ ایک ہزار اونٹ اور ستر گھوڑے مجاہدین کی سواری کے لئے اور ایک ہزار اشرفی فوج کے اخراجات کی مد میں اپنی آستین میں بھر کر لائے اور حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کی آغوش مبارک میں بکھیر دیا۔ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے ان کو قبول فرما کر یہ دعا فرمائی کہ اَللّٰھُمَّ ارْضِ عَنْ عُثْمَانَ فَاِنِّیْ عَنْہُ رَاضٍ اے اﷲ تو عثمان سے راضی ہو جا کیونکہ میں اس سے خوش ہو گیا ہوں۔
حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اﷲ تعالیٰ عنہ نے چالیس ہزار درہم دیا اور عرض کیا کہ یا رسول اﷲ! (صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) میرے گھر میں اس وقت اسی ہزار درہم تھے۔ آدھا بارگاہ اقدس میں لایا ہوں اور آدھا گھر پر بال بچوں کے لئے چھوڑ آیا ہوں۔ ارشاد فرمایا کہ اﷲ تعالیٰ اس میں بھی برکت دے جو تم لائے اور اس میں بھی برکت عطا