Brailvi Books

سیرتِ مصطفٰی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم
488 - 872
نے خبر دی کہ قیصر روم کی حکومت نے ملک ِشام میں بہت بڑی فوج جمع کردی ہے۔ اور اس فوج میں رومیوں کے علاوہ قبائل لخم و جذام اور غسان کے تمام عرب بھی شامل ہیں۔ ان خبروں کا تمام عرب میں ہر طرف چرچا تھا اور رومیوں کی اسلام دشمنی کوئی ڈھکی چھپی چیز نہیں تھی اس لیے ان خبروں کو غلط سمجھ کر نظر انداز کردینے کی بھی کوئی و جہ نہیں تھی۔ اس لیے حضور اکرم صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے بھی فوج کی تیاری کا حکم دے دیا۔

    لیکن جیسا کہ ہم تحریر کرچکے ہیں کہ اس وقت حجازِ مقدس میں شدید قحط تھا اور بے پناہ شدت کی گرمی پڑ رہی تھی ان وجوہات سے لوگوں کو گھر سے نکلنا شاق گزر رہا تھا۔ مدینہ کے منافقین جن کے نفاق کا بھانڈا پھوٹ چکا تھا وہ خود بھی فوج میں شامل ہونے سے جی چراتے تھے اور دوسروں کو بھی منع کرتے تھے۔ لیکن اس کے باوجود تیس ہزار کا لشکر جمع ہوگیا۔مگر ان تمام مجاہدین کے لیے سواریوں اور سامان جنگ کا انتظام کرنا ایک بڑا ہی کٹھن مرحلہ تھاکیونکہ لوگ قحط کی وجہ سے انتہائی مفلوک الحال اور پریشان تھے۔ اس لیے حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے تمام قبائل عرب سے فوجیں اور مالی امداد طلب فرمائی۔ اس طرح اسلام میں کسی کا رخیر کے لیے چندہ کرنے کی سنت قائم ہوئی۔(1)
فہرست چندہ دہندگان
    حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ تعالیٰ عنہ نے اپنا سارا مال اور گھر کا تمام اثاثہ یہاں تک کہ بدن کے کپڑے بھی لا کر بارگاہ نبوت میں پیش کردئیے۔ اور حضرت عمر فاروق رضی اﷲ تعالیٰ عنہ نے اپنا آدھا مال اس چندہ میں دے دیا۔ منقول ہے کہ حضرت عمر
1۔۔۔۔۔۔المواھب اللدنیۃ وشرح الزرقانی ، باب ثم غزوۃ تبوک،ج۴،ص۶۸۔۷۲
Flag Counter