Brailvi Books

سیرتِ مصطفٰی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم
487 - 872
رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی روایت کردہ حدیثیں مذکور ہیں۔(1)

             (زرقانی ج۳ص۵۳ و مدارج ج۲ ص۳۳۷)
غزوۂ تبوک
    ''تبوک'' مدینہ اور شام کے درمیان ایک مقام کا نام ہے جو مدینہ سے چودہ منزل دور ہے۔ بعض مؤرخین کا قول ہے کہ ''تبوک'' ایک قلعہ کا نام ہے اور بعض کا قول ہے کہ ''تبوک'' ایک چشمہ کا نام ہے ۔ ممکن ہے یہ سب باتیں موجود ہوں!

     یہ غزوہ سخت قحط کے دنوں میں ہوا۔ طویل سفر، ہواگرم، سواری کم، کھانے پینے کی تکلیف، لشکر کی تعداد بہت زیادہ، اس لیے اس غزوہ میں مسلمانوں کو بڑی تنگی اور تنگ دستی کا سامنا کرنا پڑا۔ یہی وجہ ہے کہ اس غزوہ کو''جیش العسرۃ ''(تنگ دستی کا لشکر) بھی کہتے ہیں اورچونکہ منافقوں کواس غزوہ میں بڑی شرمندگی اورشرمساری اٹھانی پڑی تھی۔ اس وجہ سے اس کا ایک نام ''غزوہ فاضحہ''(رسوا کرنے والا غزوہ) بھی ہے ۔ اس پر تمام مؤرخین کا اتفاق ہے کہ اس غزوہ کے لئے حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم ماہ رجب      ۹ھ؁جمعرات کے دن روانہ ہوئے۔(2)(زرقانی ج ۳ص ۶۳)
غزوۂ تبوک کا سبب
    عرب کا غسانی خاندان جو قیصر روم کے زیر اثر ملک شام پر حکومت کرتا تھا چونکہ وہ عیسائی تھا اس لیے قیصر روم نے اس کو اپنا آلہ کار بنا کر مدینہ پر فوج کشی کا عزم کرلیا۔ چنانچہ ملک شام کے جو سوداگر روغن زیتون بیچنے مدینہ آیا کرتے تھے۔ انہوں
1۔۔۔۔۔۔المواھب اللدنیۃمع شرح الزرقانی، ھدم صنم طیئ،ج۴،ص۴۸۔۵۰

2۔۔۔۔۔۔مدارج النبوت،قسم سوم،باب نہم،ج۲،ص۳۴۳۔۳۴۴والمواھب اللدنیۃ وشرح 

الزرقانی،باب ثم غزوۃ تبوک،ج۴،ص۶۵۔۶۷ملخصاً
Flag Counter