صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کے اخلاقِ نبوت سے آگاہ کیا اور رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کی بہت زیادہ تعریف کی۔ عدی بن حاتم اپنی بہن کی زبانی حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کے خلق عظیم اور عاداتِ کریمہ کے حالات سن کر بے حد متاثر ہوئے اور بغیر کوئی امان طلب کئے ہوئے مدینہ حاضر ہو گئے۔ لوگوں نے بارگاہ نبوت میں یہ خبر دی کہ عدی بن حاتم آ گیا ہے۔ حضور رحمۃللعالمین صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے انتہائی کریمانہ انداز سے عدی بن حاتم کے ہاتھ کو اپنے دستِ رحمت میں لے لیا اور فرمایا کہ اے عدی! تم کس چیز سے بھاگے؟ کیا لَا اِلٰہَ اِلَّا اﷲُ کہنے سے تم بھاگے؟ کیا خدا کے سوا کوئی اور معبود بھی ہے؟ عدی بن حاتم نے کہا کہ'' نہیں '' پھر کلمہ پڑھ لیا اور مسلمان ہو گئے ان کے اسلام قبول کرنے سے حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کو اس قدر خوشی ہوئی کہ فرطِ مسرت سے آپ کا چہرۂ انور چمکنے لگا اور آپ نے ان کو خصوصی عنایات سے نوازا۔
حضرت عدی بن حاتم رضی اﷲ تعالیٰ عنہ بھی اپنے باپ حاتم کی طرح بہت ہی سخی تھے۔ حضرت امام احمد ناقل ہیں کہ کسی نے ان سے ایک سو درہم کا سوال کیا تو یہ خفا ہوگئے اور کہا کہ تم نے فقط ایک سو درہم ہی مجھ سے مانگا تم نہیں جانتے کہ میں حاتم کا بیٹا ہوں خدا کی قسم! میں تم کو اتنی حقیر رقم نہیں دوں گا۔
یہ بہت ہی شاندار صحابی ہیں، خلافت صدیق اکبر میں جب بہت سے قبائل نے اپنی زکوٰۃ روک دی اور بہت سے مرتد ہو گئے یہ اس دور میں بھی پہاڑ کی طرح اسلام پر ثابت قدم رہے اور اپنی قوم کی زکوٰۃ لا کر بارگاہ خلافت میں پیش کی اور عراق کی فتوحات اور دوسرے اسلامی جہادوں میں مجاہد کی حیثیت سے شریک ہوئے اور ۶۸ھ میں ایک سو بیس برس کی عمر پا کر وصال فرمایا اور صحاح ستہ کی ہر کتاب میں آپ