Brailvi Books

سیرتِ مصطفٰی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم
485 - 872
اِنَّ الَّذِیۡنَ یُنَادُوۡنَکَ مِنۡ وَّرَآءِ الْحُجُرٰتِ اَکْثَرُہُمْ لَا یَعْقِلُوۡنَ ﴿۴﴾ وَلَوْ اَنَّہُمْ صَبَرُوۡا حَتّٰی تَخْرُجَ اِلَیۡہِمْ لَکَانَ خَیۡرًا لَّہُمْ ؕ وَ اللہُ غَفُوۡرٌ رَّحِیۡمٌ ﴿۵﴾
بے شک وہ جو آپ کو حجروں کے باہر سے پکارتے ہیں۔ ان میں اکثر بے عقل ہیں اور اگر وہ صبر کرتے یہاں تک کہ آپ ان کے پاس تشریف لاتے تو یہ ان کے لئے بہتر تھا اور اﷲ بخشنے والا مہربان ہے۔ (حجرات)

            (2)(مدارج النبوۃ ج۲ ص۳۳۲ و زرقانی ج۳ ص۴۴)
حاتم طائی کی بیٹی اور بیٹا مسلمان
    ربیع الآ خر   ۹ھ؁ میں حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے حضرت علی رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کی ماتحتی میں ایک سو پچاس سواروں کو اس لئے بھیجا کہ وہ قبیلہ ''طی'' کے بت خانہ کو گرا دیں۔ ان لوگوں نے شہرفلس میں پہنچ کر بت خانہ کو منہدم کر ڈالا اور کچھ اونٹوں اور بکریوں کو پکڑ کر اور چند عورتوں کو گرفتار کرکے یہ لوگ مدینہ لائے۔ ان قیدیوں میں مشہور سخی حاتم طائی کی بیٹی بھی تھی۔ حاتم طائی کا بیٹا عدی بن حاتم بھاگ کر ملک ِشام چلا گیا۔ حاتم طائی کی لڑکی جب بارگاہ رسالت میں پیش کی گئی تو اس نے کہا یا رسول اﷲ! (صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) میں ''حاتم طائی'' کی لڑکی ہوں۔ میرے باپ کا انتقال ہو گیا اور میرا بھائی ''عدی بن حاتم'' مجھے چھوڑ کر بھاگ گیا۔ میں ضعیفہ ہوں آپ مجھ پر احسان کیجئے خدا آپ پر احسان کریگا۔ حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے ان کو چھوڑ دیا اور سفر کے لئے ایک اونٹ بھی عنایت فرمایا۔ یہ مسلمان ہو کر اپنے بھائی عدی بن حاتم کے پاس پہنچی اور اس کو حضور
1۔۔۔۔۔۔پ۲۶،الحجرات:۴،۵

2۔۔۔۔۔۔المواھب اللدنیۃ وشرح الزرقانی، باب البعث الی بنی تمیم،ج۴،ص۳۱،۳۴ ملخصاً 

ومدارج النبوت، قسم سوم، باب نہم، ج۲، ص۳۳۱،۳۳۲ ملخصاً
Flag Counter