Brailvi Books

سیرتِ مصطفٰی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم
478 - 872
تعالیٰ عنہم مسجد میں غم کے مارے بیٹھے رو رہے ہیں اگر اجازت ہو تو میں جا کر ان لوگوں کو مطلع کر دوں کہ طلاق کی خبر سراسرغلط ہے۔ چنانچہ مجھے اس کی اجازت مل گئی اور میں نے جب آ کر صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم کو اس کی خبر دی تو سب لوگ خوش ہو کر ہشاش بشاش ہو گئے اور سب کو سکون و اطمینان حاصل ہو گیا۔

    جب ایک مہینہ گزر گیا اور حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کی قسم پوری ہو گئی تو آپ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم بالاخانہ سے اتر آئے اس کے بعد ہی آیت تخییر نازل ہوئی جو یہ ہے۔
یٰۤاَیُّہَا النَّبِیُّ قُلۡ لِّاَزْوَاجِکَ اِنۡ کُنۡـتُنَّ تُرِدْنَ الْحَیٰوۃَ الدُّنْیَا وَ زِیۡنَتَہَا فَتَعَالَیۡنَ اُمَتِّعْکُنَّ وَ اُسَرِّحْکُنَّ سَرَاحًا جَمِیۡلًا ﴿۲۸﴾وَ اِنۡ کُنۡـتُنَّ تُرِدْنَ اللہَ وَ رَسُوۡلَہٗ وَالدَّارَ الْاٰخِرَۃَ فَاِنَّ اللہَ اَعَدَّ لِلْمُحْسِنٰتِ مِنۡکُنَّ اَجْرًا عَظِیۡمًا ﴿۲۹﴾ (1)(احزاب)
اے نبی!اپنی بیویوں سے فرما دیجئے کہ اگر تم دنیا کی زندگی اوراسکی آرائش چاہتی ہو تو آؤمیں تمہیں کچھ مال دوں اور اچھی طرح چھوڑ دوں اور اگر تم اﷲ اور اس کے رسول اور آخرت کا گھر چاہتی ہو تو بے شک اﷲ نے تمہاری نیکی والیوں کے لئے بہت بڑااجر تیار کر رکھا ہے۔ 

     ان آیاتِ بینات کا ماحصل اور خلاصہ مطلب یہ ہے کہ رسولِ خدا صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کو خداوند ِقدوس نے یہ حکم دیا کہ آپ اپنی مقدس بیویوں کو مطلع فرما دیں کہ دو چیزیں تمہارے سامنے ہیں۔ ایک دنیا کی زینت و آرائش دوسری آخرت کی نعمت۔ اگر تم دنیا کی زیب و زینت چاہتی ہو تو پیغمبر کی زندگی چونکہ بالکل ہی زاہدانہ زندگی ہے اس لئے پیغمبر کے گھر میں تمہیں یہ دنیوی زینت و آرائش تمہاری مرضی کے مطابق نہیں
1۔۔۔۔۔۔پ۲۱، الاحزاب: ۲۸
Flag Counter