اپنی بیٹی حفصہ کے لئے کوئی سفارش لے کر آیا ہوں۔ تم عرض کر دو کہ خدا کی قسم! اگر رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم مجھے حکم فرمائیں تو میں ابھی ابھی اپنی تلوار سے اپنی بیٹی حفصہ کی گردن اڑا دوں۔ اس کے بعد مجھ کو اجازت مل گئی جب میں بارگاہِ رسالت میں باریاب ہوا تو میری آنکھوں نے یہ منظر دیکھا کہ آپ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم ایک کھری بان کی چارپائی پر لیٹے ہوئے ہیں اور آپ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کے جسم نازک پر بان کے نشان پڑے ہوئے ہیں پھر میں نے نظر اٹھا کر اِدھر اُدھر دیکھا تو ایک طرف تھوڑے سے ''جو'' رکھے ہوئے تھے اور ایک طرف ایک کھال کھونٹی پر لٹک رہی تھی۔ تاجدارِ دو عالم صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کے خزانہ کی یہ کائنات دیکھ کر میرا دل بھر آیا اور میری آنکھوں میں آنسو آ گئے۔ حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے میرے رونے کا سبب پوچھا تو میں نے عرض کیا کہ یارسول اﷲ! صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم اس سے بڑھ کر رونے کا اور کونسا موقع ہو گا ؟کہ قیصر و کسریٰ خدا کے دشمن تو نعمتوں میں ڈوبے ہوئے عیش و عشرت کی زندگی بسر کررہے ہیں اور آپ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم خدا کے رسول معظم ہوتے ہوئے اس حالت میں ہیں۔ آپ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ اے عمر!کیا تم اس پر راضی نہیں ہو کہ قیصر و کسریٰ دنیا لیں اور ہم آخرت!
اس کے بعد میں نے حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کو مانوس کرنے کے لئے کچھ اور بھی گفتگو کی یہاں تک کہ میری بات سن کر حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کے لب انور پر تبسم کے آثار نمایاں ہو گئے۔ اس وقت میں نے عرض کیا کہ یا رسول اﷲ!(صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) کیا آپ نے اپنی ازواجِ مطہرات رضی اللہ تعالیٰ عنہن کو طلاق دے دی ہے؟ آپ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ''نہیں'' مجھے اس قدر خوشی ہوئی کہ فرط مسرت سے میں نے تکبیر کا نعرہ مارا۔ پھر میں نے یہ گزارش کی یا رسول اﷲ!(صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) صحابہ کرام رضی اللہ