Brailvi Books

سیرتِ مصطفٰی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم
479 - 872
مل سکتی؛لہٰذا تم سب مجھ سے جدائی حاصل کر لو۔ میں تمہیں رخصتی کا جوڑا پہنا کر اور کچھ مال دے کر رخصت کر دوں گا۔ اور اگر تم خدا و رسول اور آخرت کی نعمتوں کی طلب گار ہو تو پھر رسولِ خدا کے دامنِ رحمت سے چمٹی رہو۔ خداعزوجل نے تم نیکو کاروں کے لئے بہت ہی بڑا اجر و ثواب تیار کر رکھا ہے جو تم کو آخرت میں ملے گا۔

(بخاری کتاب الطلاق کتاب العلم۔ کتاب اللباس باب موعظۃ الرجل ابنتہ لحال زوجہا)

اس آیت کے نزول کے بعد سب سے پہلے حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم حضرت بی بی عائشہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہا کے پاس تشریف لے گئے اور فرمایا کہ اے عائشہ! میں تمہارے سامنے ایک بات رکھتا ہوں مگر تم اس کے جواب میں جلدی مت کرنا اور اپنے والدین سے مشورہ کرکے مجھے جواب دینا ۔اس کے بعد آپ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے مذکورہ بالا تخییر کی آیت تلاوت فرما کر ان کو سنائی تو انہوں نے برجستہ عرض کیا کہ یارسول اﷲ! صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم
فَفِیْ اَیِّ ھٰذَا اَسْتَامِرُ اَبَوَیَّ فَاِنِّیْ اُرِیْدُ اللہَ وَرَسُوْلَہٗ وَالدَّارَ الْاٰخِرَۃَ (1)(بخاری ج۲ ص۷۹۲ باب من خیر نساء ہ)
    اس معاملہ میں بھلا میں کیا اپنے والدین سے مشورہ کروں میں اﷲ اور اسکے رسول اور آخرت کے گھر کو چاہتی ہوں۔پھر آپ صلی  اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے یکے بعد دیگرے تمام ازواجِ مطہرات رضی اللہ تعالیٰ عنہن کو الگ الگ آیت تخییر سنا سنا کر سب کو اختیار دیا اور سب نے وہی جواب دیا جو حضرت عائشہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہا نے جواب دیاتھا۔

    اﷲ اکبر!یہ واقعہ اس بات کی آفتاب سے زیادہ روشن دلیل ہے کہ ازواجِ مطہرات رضی اللہ تعالیٰ عنہن کو حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کی ذات سے کس قدر عاشقانہ شیفتگی
1۔۔۔۔۔۔صحیح البخاری،کتاب التفسیر،باب وان کنتن ...الخ،الحدیث:۴۷۸۶،ج۳،ص۳۰۲
Flag Counter