حملہ کر دیا؟ (ان دنوں شام کے غسانی مدینہ پر حملہ کی تیاریاں کر رہے تھے۔)انصاری نے جواب دیا کہ اجی اس سے بھی بڑھ کر حادثہ رونما ہو گیا ۔وہ یہ کہ حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے اپنی تمام بیویوں کو طلاق دے دی۔ حضرت عمر رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں کہ میں اس خبر سے بے حدمُتوحّش ہو گیا اور علی الصباح میں نے مدینہ پہنچ کر مسجد نبوی میں نماز فجر ادا کی۔ حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نماز سے فارغ ہوتے ہی بالاخانہ پر جا کر تنہا تشریف فرما ہو گئے اور کسی سے کوئی گفتگو نہیں فرمائی۔ میں مسجد سے نکل کر اپنی بیٹی حفصہ کے گھر گیا تو دیکھا کہ وہ بیٹھی رو رہی ہے۔ میں نے اس سے کہا کہ میں نے پہلے ہی تم کو سمجھا دیا تھا کہ تم رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کو تنگ مت کیا کرو اور تمہارے اخراجات میں جو کمی ہوا کرے وہ مجھ سے مانگ لیا کرو مگر تم نے میری بات پر دھیان نہیں دیا۔ پھر میں نے پوچھا کہ کیا رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے سبھوں کو طلاق دے دی ہے؟ حفصہ نے کہا میں کچھ نہیں جانتی۔ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم بالاخانہ پر ہیں آپ ان سے دریافت کریں۔ میں وہاں سے اُٹھ کر مسجد میں آیا تو صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم کو بھی دیکھا کہ وہ منبر کے پاس بیٹھے رو رہے ہیں ۔میں ان کے پاس تھوڑی دیر بیٹھا لیکن میری طبیعت میں سکون و قرار نہیں تھا۔ اس لئے میں اُٹھ کر بالاخانہ کے پاس آیا اور پہرہ دار غلام ''رباح'' سے کہا کہ تم میرے لئے اندر آنے کی اجازت طلب کرو۔ رباح نے لوٹ کر جواب دیا کہ میں نے عرض کر دیا لیکن آ پ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے کوئی جواب نہیں دیا۔ میری اُلجھن اوربے تابی اور زیادہ بڑھ گئی اور میں نے دربان سے دوبارہ اجازت طلب کرنے کی درخواست کی پھر بھی کوئی جواب نہیں ملا۔ تو میں نے بلند آواز سے کہا کہ اے رباح! تم میرا نام لے کر اجازت طلب کرو۔ شاید رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کو یہ خیال ہو کہ میں