Brailvi Books

سیرتِ مصطفٰی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم
465 - 872
حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے انصار کو مخاطب فرما کر ارشاد فرمایا کہ

کیا یہ سچ نہیں ہے کہ تم پہلے گمراہ تھے میرے ذریعہ سے خدا نے تم کو ہدایت دی، تم متفرق اور پراگندہ تھے، خدا نے میرے ذریعہ سے تم میں اتفاق و اتحاد پیدا فرمایا، تم مفلس تھے، خدا نے میرے ذریعہ سے تم کو غنی بنا دیا۔(بخاری ج۲ ص۶۲۰ غزوۂ طائف)

    حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم یہ فرماتے جاتے تھے اور انصار آپ کے ہر جملہ کو سن کر یہ کہتے جاتے تھے کہ''اﷲ اور رسول کا ہم پر بہت بڑا احسان ہے۔'' 

    آپ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ اے انصار!تم لوگ یوں مت کہو، بلکہ مجھ کو یہ جواب دو کہ یارسول اﷲ!عزوجل وصلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم جب لوگوں نے آپ کو جھٹلایا تو ہم لوگوں نے آپ کی تصدیق کی۔ جب لوگوں نے آپ کو چھوڑ دیا تو ہم لوگوں نے آپ کو ٹھکانا دیا۔ جب آپ بے سروسامانی کی حالت میں آئے تو ہم نے ہر طرح سے آپ کی خدمت کی۔ لیکن اے انصاریو! میں تم سے ایک سوال کرتا ہوں تم مجھے اس کا جواب دو۔سوال یہ ہے کہ

    کیا تم لوگوں کو یہ پسند نہیں کہ سب لوگ یہاں سے مال و دولت لے کر اپنے گھر جائیں اور تم لوگ اﷲ کے نبی کو لے کر اپنے گھر جاؤ۔خدا کی قسم! تم لوگ جس چیز کو لے کر اپنے گھر جاؤ گے وہ اس مال و دولت سے بہت بڑھ کر ہے جس کو وہ لوگ لے کر اپنے گھر جائیں گے۔

    یہ سن کر انصار بے اختیار چیخ پڑے کہ یارسول اﷲ!عزوجل وصلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم ہم اس پر راضی ہیں۔ ہم کو صرف اﷲعزوجل کا رسول چاہیے اور اکثر انصار کا تو یہ حال ہو گیا کہ وہ روتے روتے بے قرار ہو گئے اور آنسوؤں سے ان کی داڑھیاں تر ہو گئیں۔