| سیرتِ مصطفٰی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم |
پھر آپ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے انصار کو سمجھایا کہ مکہ کے لوگ بالکل ہی نو مسلم ہیں۔ میں نے ان لوگوں کو جو کچھ دیا ہے یہ ان کے استحقاق کی بنا پر نہیں ہے بلکہ صرف ان کے دلوں میں اسلام کی اُلفت پیدا کرنے کی غرض سے دیا ہے، پھر ارشاد فرمایا کہ اگرہجرت نہ ہوتی تو میں انصار میں سے ہوتا اور اگر تمام لوگ کسی وادی اور گھاٹی میں چلیں اور انصار کسی دوسری وادی اور گھاٹی میں چلیں تو میں انصار کی وادی اور گھاٹی میں چلوں گا۔(1) (بخاری ج۲ ص۶۲۰ و ص۶۲۱ غزوۂ طائف)
قیدیوں کی رہائی
آپ جب اموالِ غنیمت کی تقسیم سے فارغ ہو چکے تو قبیلہ بنی سعد کے رئیس زہیر ابو صردچند معززین کے ساتھ بارگاہ رسالت میں حاضر ہوئے اور اسیران جنگ کی رہائی کے بارے میں درخواست پیش کی۔ اس موقع پر زہیر ابو صرد نے ایک بہت مؤثر تقریر کی،جس کا خلاصہ یہ ہے کہ
اے محمد!(صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم)آپ نے ہمارے خاندان کی ایک عورت حلیمہ کا دودھ پیا ہے۔ آپ نے جن عورتوں کو ان چھپروں میں قید کر رکھا ہے ان میں سے بہت سی آپ کی(رضاعی)پھوپھیاں اور بہت سی آپ کی خالائیں ہیں۔ خدا کی قسم! اگر عرب کے بادشاہوں میں سے کسی بادشاہ نے ہمارے خاندان کی کسی عورت کا دودھ پیا ہوتا تو ہم کو اس سے بہت زیادہ امیدیں ہوتیں اور آپ سے تو اور بھی زیادہ ہماری توقعات وابستہ ہیں۔ لہٰذا آپ ان سب قیدیوں کو رہا کر دیجئے۔1۔۔۔۔۔۔صحیح البخاری،کتاب المغازی، باب غزوۃالطائف، الحدیث:۴۳۳۰،ج۳،ص۱۱۶ والمواہب اللدنیۃ و شرح الزرقانی، باب نبذۃ من قسم الغنائم...الخ،ج۴، ص۲۳