Brailvi Books

سیرتِ مصطفٰی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم
464 - 872
رئیسوں کو آپ نے بڑے بڑے انعاموں سے نوازا۔ یہاں تک کہ کسی کو تین سو اونٹ، کسی کو دو سو اونٹ، کسی کو سو اونٹ انعام کے طور پر عطا فرما دیا۔ اسی طرح بکریوں کو بھی نہایت فیاضی کے ساتھ تقسیم فرمایا۔ (1) (سیرت ابن ہشام ج۲ ص۴۸۹)
انصاریوں سے خطاب
    جن لوگوں کو آپ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے بڑے بڑے انعامات سے نوازا وہ عموماً مکہ والے نو مسلم تھے۔ اس پر بعض نوجوان انصاریوں نے کہاکہ

    ''رسول اﷲ عزوجل وصلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم قریش کو اس قدر عطا فرما رہے ہیں اور ہم لوگوں کا کچھ بھی خیال نہیں فرما رہے ہیں۔حالانکہ ہماری تلواروں سے خون ٹپک رہا ہے۔(بخاری ج۲ ص۶۲۰ غزوۂ طائف)

    اور انصار کے کچھ نوجوانوں نے آپس میں یہ بھی کہا اور اپنی دل شکنی کا اظہار کیا کہ جب شدید جنگ کا موقع ہوتا ہے تو ہم انصاریوں کو پکارا جاتا ہے اور غنیمت دوسرے لوگوں کو دی جا رہی ہے۔(2) (بخاری ج۲ ص۶۲۱ غزوۂ طائف)

    آپ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے جب یہ چرچا سنا تو تمام انصاریوں کو ایک خیمہ میں جمع فرمایا ا ور ان سے ارشاد فرمایا کہ اے انصار!کیا تم لوگوں نے ایسا ایسا کہا ہے؟ لوگوں نے عرض کیا کہ یارسول اﷲ!(عزوجل وصلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) ہمارے سرداروں میں سے کسی نے بھی کچھ نہیں کہا ہے۔ ہاں چند نئی عمر کے لڑکوں نے ضرور کچھ کہہ دیا ہے۔
1۔۔۔۔۔۔السیرۃ النبویۃلابن ھشام، باب امراموال ھوازن وسبایاھا...الخ،ص۵۰۶

والمواہب اللدنیۃ وشرح الزرقانی، باب نبذۃ من قسم الغنائم...الخ،ج۴، ص۱۹

2۔۔۔۔۔۔صحیح البخاری ،کتاب المغازی، باب غزوۃ الطائف، الحدیث: ۴۳۳۱،۴۳۳۷، 

ج۳،ص۱۱۷والمواہب اللدنیۃ و شرح الزرقانی،باب نبذۃ من ...الخ،ج۴،ص۲۲۔۲۴
Flag Counter