| سیرتِ مصطفٰی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم |
چنانچہ آپ نے ان سب بتوں اور بت خانوں کو توڑ پھوڑ کر مسمار و برباد کردیا۔ اور جب لوٹ کر خدمت اقدس میں حاضر ہوئے تو حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم ان کو دیکھ کر بے حد خوش ہوئے اور بہت دیر تک ان سے تنہائی میں گفتگو فرماتے رہے،جس سے لوگوں کو بہت تعجب ہوا۔ (1) (مدارج النبوۃ ج۲ ص۳۱۸)
طائف سے روانگی کے وقت صحابہ کرام رضی اﷲ تعالیٰ عنہم نے عرض کیا کہ یارسول اﷲ!(عزوجل وصلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) آپ قبیلہ ثقیف کے کفار کے لئے ہلاکت کی دعا فرما دیجئے۔ تو آپ نے دعا مانگی کہ'' اَللّٰھُمَّ اھْدِ ثَقِیْفًا وَأْتِ بِھِمْ ''یااﷲ!عزوجلثقیف کو ہدایت دے اور انکو میرے پاس پہنچا دے۔(مسلم ج۲ص۳۰۷)
چنانچہ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم کی یہ دعا مقبول ہوئی کہ قبیلہ ثقیف کا وفد مدینہ پہنچا اور پورا قبیلہ مشرف بہ اسلام ہو گیا۔(2)مالِ غنیمت کی تقسیم
طائف سے محاصرہ اُٹھا کر حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم ''جعرانہ'' تشریف لائے۔ یہاں اموال غنیمت کا بہت بڑا ذخیرہ جمع تھا۔ چوبیس ہزار اونٹ، چالیس ہزار سے زائد بکریاں، کئی من چاندی،اور چھ ہزار قیدی۔ (3)(سیرت ابن ہشام ج۲ ص۴۸۸ و زرقانی) اسیرانِ جنگ کے بارے میں آپ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے ان کے رشتہ داروں کے آنے کا انتظار فرمایا۔ لیکن کئی دن گزرنے کے باوجود جب کوئی نہ آیا تو آپ نے مال غنیمت کو تقسیم فرما دینے کا حکم دے دیا مکہ اور اس کے اطراف کے نومسلم
1۔۔۔۔۔۔مدارج النبوت، قسم سوم، باب ہشتم، ج۲، ص۳۱۸ 2۔۔۔۔۔۔المواہب اللدنیۃ و شرح الزرقانی، باب نبذۃ من قسم الغنائم...الخ، ج۴، ص۱۸ 3۔۔۔۔۔۔السیرۃ النبویۃ لابن ھشام، باب امراموال ھوازن وسبایاھا...الخ، ص۵۰۴ والمواہب اللدنیۃ وشرح الزرقانی، باب نبذۃ من قسم الغنائم...الخ، ج۴، ص۱۹