Brailvi Books

سیرتِ مصطفٰی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم
462 - 872
دوسی رضی اﷲ تعالیٰ عنہ نے وہاں جا کر بت خانہ کو منہدم کر دیا اور بت کو جلا دیا۔ بت کو جلاتے وقت وہ ان اشعار کو پڑھتے جاتے تھے:
                یَاذَا الْکَفَیْنِ لَسْتُ مِنْ عِبَادِکَا
                اے ذالکفین!میں تیرا بندہ نہیں ہوں
                مِیْلَادُنَا اَقدم مِنْ مِیْلَادِکَا
               میری پیدائش تیری پیدائش سے بڑی ہے
                اِنِّیْ حَشَوْتُ النَّارَ فِیْ فُؤَادِکَا
               میں نے تیرے دل میں آگ لگا دی ہے

    حضرت طفیل بن عمرو دوسی رضی اﷲ تعالیٰ عنہ چار دن میں اس مہم سے فارغ ہوکر حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کے پاس طائف میں پہنچ گئے۔ یہ ''ذوالکفین'' سے قلعہ توڑنے کے آلات منجنیق وغیرہ بھی لائے تھے۔ چنانچہ اسلام میں سب سے پہلی یہی منجنیق ہے جو طائف کا قلعہ توڑنے کے لئے لگائی گئی ۔مگر کفار کی فوجوں نے تیر اندازی کے ساتھ ساتھ گرم گرم لوہے کی سلاخیں پھینکنی شروع کر دیں اس وجہ سے قلعہ توڑنے میں کامیابی نہ ہو سکی۔ (1) (زرقانی ج۳ ص۳۱)

    اسی طرح حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے حضرت علی رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کو بھیجا کہ طائف کے اطراف میں جو جا بجا ثقیف کے بت خانے ہیں ان سب کو منہدم کر دیں۔
1۔۔۔۔۔۔المواہب اللدنیۃ وشرح الزرقانی، باب حرق ذی الکفین،ج۴، ص۳،۴

والمواہب اللدنیۃ وشرح الزرقانی، باب غزوۃ الطائف،ص۱۰
Flag Counter