| سیرتِ مصطفٰی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم |
طائف کے محاصرہ میں بہت سے مسلمان زخمی ہوئے اورکل بارہ اصحاب شہید ہوئے سات قریش،چار انصار اور ایک شخص بنی لیث کے۔ زخمیوں میں حضرت ابوبکر صدیق رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کے صاحبزادے عبداﷲ بن ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہما بھی تھے یہ ایک تیر سے زخمی ہو گئے تھے۔ پھر اچھے بھی ہو گئے، لیکن ایک مدت کے بعد پھر ان کا زخم پھٹ گیا اور اپنے والد ماجد حضرت ابوبکر صدیق رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کے دور خلافت میں اِسی زخم سے ان کی وفات ہو گئی۔ (1) (زرقانی ج۳ ص۳۰)
طائف کی مسجد
یہ مسجد جس کو حضرت عمروبن امیہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ نے تعمیر کیا تھا ایک تاریخی مسجدہے۔ اس جنگ طائف میں ازواجِ مطہرات میں سے دوازواج ساتھ تھیں حضرت اُمِ سلمہ اور حضرت زینب رضی اللہ تعالیٰ عنہما ان دونوں کے لئے حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے دو خیمے گاڑے تھے اور جب تک طائف کا محاصرہ رہا آپ ان دونوں خیموں کے درمیان میں نمازیں پڑھتے رہے۔ جب بعد میں قبیلہ ثقیف کے لوگوں نے اسلام قبول کر لیا تو ان لوگوں نے اسی جگہ پر مسجد بنا لی۔ (2) (زرقانی ج۳ ص۳۱)
جنگ طائف میں بت شکنی
جب حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے طائف کا ارادہ فرمایا تو حضرت طفیل بن عمرو دوسی رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کو ایک لشکر کے ساتھ بھیجا کہ وہ ''ذوالکفین'' کے بت خانہ کو برباد کر دیں۔ یہاں عمربن حممہ دوسی کا بت تھا جو لکڑی کا بنا ہوا تھا۔ چنانچہ حضرت طفیل بن عمرو
1۔۔۔۔۔۔المواہب اللدنیۃ وشرح الزرقانی، باب غزوۃ الطائف،ج۴، ص۹ والسیرۃ النبویۃ لابن ھشام، باب شھداء المسلمین فی الطائف، ص۵۰۴ 2۔۔۔۔۔۔السیرۃ النبویۃ لابن ھشام، باب الطریق الی الطائف، ص۵۰۲