Brailvi Books

سیرتِ مصطفٰی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم
46 - 872
مقدسہ کا ذکر جمیل ہے جو ہماری ایمانی عقیدتوں کا مرکز اورہماری اسلامی زندگی کا محور ہے ۔ یہ محبوب خدا صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی ان قابل احترام اداؤں کا بیان ہے جن پر کائنات عالم کی تمام عظمتیں قربان ہیں ، لہذا اس کے مطالعہ کے وقت آپ کو ادب واحترام کا پیکر بن کر اورتعظیم وتوقیر کے جذبات صادقہ سے اپنے قلب ودماغ کو منور کر کے اس تصور کے ساتھ اس کی ایک ایک سطر کو پڑھنا چاہیے کہ اس کا ایک ایک لفظ میرے لئے حسنات وبرکات کا خزانہ ہے اورگویا میں حضور رحمۃ للعالمین صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے مقدس دربار میں حاضر ہوں اورآپ کی ان پیاری پیاری اداؤں کو دیکھ رہا ہوں اورآپ کے فیض صحبت سے انوار حاصل کر رہا ہوں ۔ حضرت ابو ابراہیم تجیبی علیہ الرحمۃ نے ارشاد فرمایا ہے کہ 

    ''ہر مومن پر واجب ہے کہ جب وہ رحمت عالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کا ذکر کرے یا اسکے سامنے آپ کا ذکر کیا جائے تو وہ پر سکون ہوکر نیاز مندی وعاجزی کا اظہار کرے، اوراپنے قلب میں آپ کی عظمت اورہیبت وجلال کاایسا ہی تاثر پیدا کرے جیسا کہ آپ کے روبرو حاضر ہونے کی صورت میں آپ کے جلال وہیبت سے متاثر ہوتا۔''                            (شفا ء ج2ص32)

    اورحضرت علامہ قاضی عیاض رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے فرمایا کہ حضور انور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی وفات اقدس کے بعد بھی ہرامتی پر آپ کی اتنی ہی تعظیم وتوقیر لازم ہے جتنی کہ آپ کی ظاہری حیات میں تھی ۔ چنانچہ خلیفہ بغداد ابو جعفر منصور عباسی جب مسجد نبوی میں آکر زور زور سے بولنے لگاتو حضرت امام مالک رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے ا سکو یہ کہہ کر ڈانٹ دیا کہ اے امیر المومنین! یہاں بلند آواز سے گفتگونہ کیجئے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے قرآن میں اپنے حبیب صلی اللہ تعالیٰ علیہ وال وسلم کے دربار کا یہ ادب سکھایا کہ