پوچھا کہ چچا جان! آپ کو کس نے تیر مارا ہے؟ تو حضرت ابو عامر رضی اﷲ تعالیٰ عنہ نے اشارہ سے بتایا کہ وہ شخص میرا قاتل ہے۔ حضرت ابو موسیٰ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ جوش میں بھرے ہوئے اس کافر کو قتل کرنے کے لئے دوڑے تو وہ بھاگ نکلا۔ مگر حضرت ابو موسیٰ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ نے اس کا پیچھا کیا اور یہ کہہ کر کہ اے او بھاگنے والے! کیا تجھ کو شرم اور غیرت نہیں آتی؟ جب اس کافر نے یہ گرم گرم طعنہ سنا تو ٹھہر گیا پھر دونوں میں تلوار کے دو دو ہاتھ ہوئے اور حضرت ابو موسیٰ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ نے آخر اس کو قتل کرکے دم لیا۔ پھر اپنے چچا کے پاس آئے اور خوشخبری سنائی کہ چچا جان! خدا نے آپ کے قاتل کاکام تمام کر دیا۔ پھر حضرت ابو موسیٰ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ نے اپنے چچا کے زانو سے وہ تیر کھینچ کر نکالا تو چونکہ زہر میں بجھایا ہوا تھا اس لئے زخم سے بجائے خون کے پانی بہنے لگا۔ حضرت ابو عامر رضی اﷲ تعالیٰ عنہ نے اپنی جگہ حضرت ابو موسیٰ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کو فوج کا سپہ سالار بنایا اور یہ وصیت کی کہ رسول اﷲ عزوجل و صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کی خدمت میں میرا سلام عرض کر دینا اورمیرے لئے دعا کی درخواست کرنا ۔یہ وصیت کی اور ان کی روح پرواز کر گئی۔ حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کا بیان ہے کہ جب اس جنگ سے فارغ ہو کر میں بارگاہ رسالت میں حاضر ہوا اور اپنے چچا کا سلام اور پیغام پہنچایا تو اس وقت تاجدار دو عالم صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم ایک بان کی چارپائی پر تشریف فرما تھے اور آپ کی پشت مبارک اور پہلوئے اقدس میں بان کے نشان پڑے ہوئے تھے۔ آپ نے پانی منگا کر وضو فرمایا ۔پھر اپنے دونوں ہاتھوں کو اتنا اونچا اٹھایا کہ میں نے آپ کی دونوں بغلوں کی سفیدی دیکھ لی اور اس طرح آپ نے دعا مانگی کہ ''یااﷲ! عزوجل تو ابو عامررضی اﷲ تعالیٰ عنہ کو قیامت کے دن بہت سے انسانوں سے زیادہ بلند مرتبہ بنا دے۔'' یہ کرم دیکھ کر حضرت ابو موسیٰ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ نے عرض کیا