Brailvi Books

سیرتِ مصطفٰی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم
459 - 872
کہ یا رسول اﷲ!(صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) میرے لئے بھی دعا فرما دیجئے؟ تو یہ دعا فرمائی کہ ''یااﷲ!عزوجل توعبداﷲ بن قیس کے گناہوں کو بخش دے اور اس کو قیامت کے دن عزت والی جگہ میں داخل فرما۔ عبداﷲ بن قیس حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کا نام ہے۔(1) (بخاری ج۲ ص۶۱۹ غزوۂ اوطاس)

بہر کیف حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اﷲ تعالیٰ عنہ نے درید بن الصمہ کے بیٹے کو قتل کر دیا اور اسلامی علم کو اپنے ہاتھ میں لے لیا۔ درید بن الصمہ بڑھاپے کی وجہ سے ایک ہودج پر سوار تھا۔ اس کو حضرت ربیعہ بن رفیع رضی اﷲ تعالیٰ عنہ نے خود اسی کی تلوار سے قتل کر دیا۔ اس کے بعد کفار کی فوجوں نے ہتھیار ڈال دیا اور سب گرفتار ہو گئے۔ ان قیدیوں میں حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کی رضاعی بہن حضرت ''شیماء'' رضی اللہ تعالیٰ عنہا بھی تھیں۔ یہ حضرت بی بی حلیمہ سعدیہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہا کی صاحبزادی تھیں۔ جب لوگوں نے ان کو گرفتار کیا تو انہوں نے کہا کہ میں تمہارے نبی کی بہن ہوں۔ مسلمان ان کو شناخت کے لئے بارگاہ نبوت میں لائے تو حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے ان کو پہچان لیا اور جوشِ محبت میں آپ کی آنکھیں نم ہو گئیں اور آپ نے اپنی چادر مبارک زمین پر بچھا کر ان کو بٹھایا اور کچھ اونٹ کچھ بکریاں ان کو دے کر فرمایا کہ تم آزاد ہو۔ اگر تمہارا جی چاہے تو میرے گھر پر چل کر رہو اور اگر اپنے گھر جانا چاہو تو میں تم کو وہاں پہنچا دوں۔ انہوں نے اپنے گھر جانے کی خواہش ظاہر کی تو نہایت ہی عزت و احترام کے ساتھ وہ ان کے قبیلے میں پہنچا دی گئیں۔(2) (طبری ج۳ ص۶۶۸)
1۔۔۔۔۔۔المواہب اللدنیۃ وشرح الزرقانی،باب غزوۃاوطاس،ج۳، ص۵۳۲۔۵۳۶ملخصاً 

وصحیح البخاری،کتاب المغازی، باب غزوۃ اوطاس، الحدیث۴۳۲۳،ج۳،ص۱۱۳

2۔۔۔۔۔۔المواھب اللدنیۃ مع شرح الزرقانی، باب غزوۃ اوطاس ،ج۳، ص۵۳۳
Flag Counter