| سیرتِ مصطفٰی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم |
وَّیَوْمَ حُنَیۡنٍ ۙ اِذْ اَعْجَبَتْکُمْ کَثْرَتُکُمْ فَلَمْ تُغْنِ عَنۡکُمْ شَیْـًٔا وَّضَاقَتْ عَلَیۡکُمُ الۡاَرْضُ بِمَا رَحُبَتْ ثُمَّ وَلَّیۡتُمۡ مُّدْبِرِیۡنَ ﴿ۚ۲۵﴾ثُمَّ اَنۡزَلَ اللہُ سَکِیۡنَتَہٗ عَلٰی رَسُوۡلِہٖ وَعَلَی الْمُؤْمِنِیۡنَ وَاَنۡزَلَ جُنُوۡدًا لَّمْ تَرَوْہَا ۚ وَعَذَّبَ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا ؕ وَ ذٰلِکَ جَزَآءُ الْکٰفِرِیۡنَ ﴿۲۶﴾ (1)(توبہ)
اور حنین کا دن یاد کرو جب تم اپنی کثرت پر نازاں تھے تو وہ تمہارے کچھ کام نہ آئی اور زمین اتنی وسیع ہونے کے باوجود تم پر تنگ ہو گئی۔ پھر تم پیٹھ پھیر کر بھاگ نکلے پھر اﷲ نے اپنی تسکین اتاری اپنے رسول اور مسلمانوں پر اور ایسے لشکروں کو اتار دیا جو تمہیں نظر نہیں آئے اور کافروں کو عذاب دیا اور کافروں کی یہی سزا ہے۔
حنین میں شکست کھا کر کفار کی فوجیں بھاگ کر کچھ تو ''اوطاس'' میں جمع ہوگئیں اور کچھ ''طائف'' کے قلعہ میں جا کر پناہ گزین ہو گئیں۔ اس لئے کفار کی فوجوں کو مکمل طور پر شکست دینے کے لئے ''اوطاس'' اور ''طائف'' پر بھی حملہ کرنا ضروری ہو گیا۔جنگ اوطاس
چنانچہ حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے حضرت ابو عامر اشعری رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کی ماتحتی میں تھوڑی سی فوج ''اوطاس'' کی طرف بھیج دی۔ درید بن الصمہ کئی ہزار کی فوج لے کر نکلا۔ درید بن الصمہ کے بیٹے نے حضرت ابو عامر اشعری رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کے زانو پر ایک تیر مارا حضرت ابو عامر اشعری حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کے چچا تھے۔ اپنے چچا کو زخمی دیکھ کر حضرت ابو موسیٰ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ دوڑ کر اپنے چچا کے پاس آئے اور
1۔۔۔۔۔۔پ۱۰، التوبۃ:۲۶