اسی حالت میں آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے دا ہنی طرف دیکھ کر بلند آواز سے پکارا کہ '' یَا مَعْشَرَ الْاَنْصَارِ'' فورًا آواز آئی کہ ''ہم حاضر ہیں،یا رسول اﷲ!'' صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم پھر بائیں جانب رخ کرکے فرمایا کہ ''یَا لَلْمُھَاجِرِیْنَ'' فوراً آواز آئی کہ ''ہم حاضر ہیں،یا رسول اﷲ!'' صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم ،حضرت عباس رضی اﷲ تعالیٰ عنہ چونکہ بہت ہی بلند آواز تھے۔ آپ نے ان کو حکم دیا کہ انصار و مہاجرین کو پکارو۔ انہوں نے جو '' یَا مَعْشَرَ الْاَنْصَار'' اور '' یَا لَلْمُھَاجِرِیْنَ'' کا نعرہ مارا تو ایک دم تمام فوجیں پلٹ پڑیں اور لوگ اس قدر تیزی کے ساتھ دوڑ پڑے کہ جن لوگوں کے گھوڑے ازدحام کی و جہ سے نہ مڑ سکے انہوں نے ہلکا ہونے کے لئے اپنی زرہیں پھینک دیں اور گھوڑوں سے کود کود کر دوڑے اور کفار کے لشکر پر جھپٹ پڑے اور اس طرح جاں بازی کے ساتھ لڑنے لگے کہ دم زدن میں جنگ کا پانسہ پلٹ گیا۔ کفار بھاگ نکلے کچھ قتل ہو گئے جو رہ گئے گرفتار ہو گئے۔ قبیلہ ثقیف کی فوجیں بڑی بہادری کے ساتھ جم کر مسلما نو ں سے لڑتی رہیں۔ یہاں تک کہ ان کے ستر بہادر کٹ گئے۔ لیکن جب ان کا علمبردار عثمان بن عبداﷲ قتل ہو گیا تو ان کے پاؤں بھی اُکھڑ گئے۔ اور فتح مبین نے حضور رحمۃ للعالمین صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کے قدموں کا بوسہ لیا اور کثیر تعداد و مقدار میں مال غنیمت ہاتھ آیا۔(1)(بخاری ج۲ ص۶۲۱ غزوۂ طائف)
یہی وہ مضمون ہے جس کو قرآن حکیم نے نہایت مؤثر انداز میں بیان فرمایا کہ