Brailvi Books

سیرتِ مصطفٰی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم
455 - 872
دس ہزار تو مہاجرین و انصار وغیرہ کا وہ لشکر تھا جو مدینہ سے آپ کے ساتھ آیا تھا اور دو ہزار نومسلم تھے جو فتح مکہ میں مسلمان ہوئے تھے۔ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے اس لشکر کو ساتھ لے کر اس شان و شوکت کے ساتھ حنین کا رُخ کیا کہ اسلامی افواج کی کثرت اور اس کے جاہ و جلال کو دیکھ کر بے اختیار بعض صحابہ رضی اللہ تعالیٰ عنہم کی زبان سے یہ لفظ نکل گیا کہ''آج بھلا ہم پر کون غالب آسکتا ہے۔''

    لیکن خداو ند عالم عزوجل کو صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم کا اپنی فوجوں کی کثرت پر ناز کرنا پسند نہیں آیا۔ چنانچہ اس فخر و نازش کا یہ انجام ہوا کہ پہلے ہی حملہ میں قبیلہ ہوازن و ثقیف کے تیر اندازوں نے جو تیروں کی بارش کی اورہزاروں کی تعداد میں تلواریں لےکر مسلمانوں پر ٹوٹ پڑے تو وہ دو ہزار نو مسلم اور کفار مکہ جو لشکر اسلام میں شامل ہو کر مکہ سے آئے تھے ایک دم سرپر پیر رکھ کر بھاگ نکلے۔ ان لوگوں کی بھگدڑ دیکھ کر انصار و مہاجرین کے بھی پاؤں اکھڑ گئے۔ حضور تاجدار دوعالم صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے جو نظر اٹھا کر دیکھا تو گنتی کے چند جاں نثاروں کے سوا سب فرار ہو چکے تھے۔ تیروں کی بارش ہو رہی تھی۔بارہ ہزار کا لشکر فرار ہو چکا تھامگر خداعزوجل کے رسول صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے پائے استقامت میں بال برابر بھی لغزش نہیں ہوئی۔بلکہ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم اکیلے ایک لشکر بلکہ ایک عالم کائنات کا مجموعہ بنے ہوئے نہ صرف پہاڑ کی طرح ڈٹے رہے بلکہ اپنے سفید خچر پر سوار برابر آگے ہی بڑھتے رہے اور آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی زَبانِ مبارک پر یہ الفاظ جاری تھے کہ
اَنَا النَّبِیُّ لَا کَذِبْ     اَنَا ابْنُ عَبْدِ الْمُطَّلِبْ
میں نبی ہوں یہ جھوٹ نہیں ہے میں عبدالمطلب کا بیٹا ہوں۔
Flag Counter