| سیرتِ مصطفٰی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم |
قُلْ یٰعِبَادِیَ الَّذِیۡنَ اَسْرَفُوۡا عَلٰۤی اَنۡفُسِہِمْ لَا تَقْنَطُوۡا مِنۡ رَّحْمَۃِ اللہِ ؕ اِنَّ اللہَ یَغْفِرُ الذُّنُوۡبَ جَمِیۡعًا ؕ اِنَّہٗ ہُوَ الْغَفُوۡرُ الرَّحِیۡمُ ﴿۵۳﴾ (1)
یعنی اے حبیب آپ فرمادیجئے کہ اے میرے بندو!جنہوں نے اپنی جانوں پر حد سے زیادہ گناہ کرلیا ہے اللہ کی رحمت سے ناامید مت ہوجاؤ۔ اللہ تمام گناہوں کو بخش دے گا۔ وہ یقینا بڑا بخشنے والااور بہت مہربان ہے۔ (زمر)(2) (مدارج النبوۃ ج ۲ص ۳۰۲)
مکہ کا انتظام
حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے مکہ کا نظم و نسق اور انتظام چلانے کے لئے حضرت عتاب بن اسید رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو مکہ کا حاکم مقرر فرما دیا اور حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو اس خدمت پر مامور فرمایا کہ وہ نومسلموں کو مسائل و احکام اسلام کی تعلیم دیتے رہیں۔ (3)(مدارج النبوۃ ج ۲ ص ۳۲۴)
اس میں اختلاف ہے کہ فتح کے بعد کتنے دنوں تک حضورِ اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے مکہ میں قیام فرمایا۔ ابوداود کی روایت ہے کہ سترہ دن تک آپ مکہ میں مقیم رہے۔ اور ترمذی کی روایت سے پتا چلتا ہے کہ اٹھارہ دن آپ کا قیام رہا۔ لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت کی ہے کہ انیس دن آپ مکہ میں ٹھہرے۔(بخاری ج۲ ص ۶۱۵)1۔۔۔۔۔۔پ۲۴، الزمر: ۵۳ 2۔۔۔۔۔۔مدارج النبوت ، قسم سوم ، باب ہفتم ،ج۲،ص۳۰۱،۳۰۲ملخصاً 3۔۔۔۔۔۔مدارج النبوت،قسم سوم، باب ہشتم، ج۲، ص۳۲۴،۳۲۵ والمواہب اللدنیۃ وشرح الزرقانی، باب غزوۃ حنین،ج۳، ص۴۹۸۔۴۹۹