معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حضرت کعب بن زہیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی وفات کے بعد ان کے وارثوں کو بیس ہزار درہم دے کر وہ چادر لے لی اور عرصہ دراز تک وہ چادر سلاطین اسلام کے پاس ایک مقدس تبرک بن کر باقی رہی۔(1) (مدارج ج۲ ص ۳۳۸)
(۴)''وحشی''یہی وہ وحشی ہیں جنہوں نے جنگ ِ اُحد میں حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے چچا حضرت حمزہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو شہید کردیا تھا۔یہ بھی فتح مکہ کے دن بھاگ کر طائف چلے گئے تھے مگر پھر طائف کے ایک وفد کے ہمراہ بارگاہِ رسالت میں حاضر ہوکر مسلمان ہوگئے۔ حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے ان کی زبان سے اپنے چچا کے قتل کی خونی داستان سنی اور رنج و غم میں ڈوب گئے مگر ان کو بھی آپ نے معاف فرما دیا۔ لیکن یہ فرمایا کہ وحشی! تم میرے سامنے نہ آیاکرو۔ حضرت وحشی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو اس کا بے حد ملال رہتا تھا۔ پھر جب حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی خلافت کے زمانے میں مسیلمۃ الکذاب نے نبوت کا دعویٰ کیا اور لشکر اسلام نے اس ملعون سے جہاد کیا تو حضرت وحشی رضی اللہ تعالیٰ عنہ بھی اپنا نیزہ لے کرجہاد میں شامل ہوئے اور مسیلمۃ الکذاب کو قتل کردیا۔ حضرت وحشی رضی اللہ تعالیٰ عنہ اپنی زندگی میں کہا کرتے تھے کہ قَتَلْتُ خَیْرَ النَّاسِ فِی الْجَاھِلِیَّۃِ وَقَتَلْتُ شَرَّالنَّاسِ فِی الْاِسْلَامِ۔ یعنی میں نے دور جاہلیت میں بہترین انسان (حضرت حمزہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ)کو قتل کیااوراپنے دور اسلام میں بدترین آدمی (مسیلمۃ الکذاب) کو قتل کیا۔ انہوں نے درباراقدس میں اپنے جرائم کا اعتراف کرکے عرض کیا کہ کیا خدا مجھ جیسے مجرم کو بھی بخش دے گا؟ تو یہ آیت نازل ہوئی کہ