Brailvi Books

سیرتِ مصطفٰی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم
453 - 872
    ان تینوں روایتوں میں اس طرح تطبیق دی جاسکتی ہے کہ ابوداود کی روایت میں مکہ میں داخل ہونے اور مکہ سے روانگی کے دونوں دنوں کو شمار نہیں کیا ہے اس لئے سترہ دنوں مدتِ اقامت بتائی ہے اور ترمذی کی روایت میں مکہ میں آنے کے دن کو توشمار کرلیا۔ کیونکہ آپ صبح کو مکہ میں داخل ہوئے تھے اور مکہ سے روانگی کے دن کو شمار نہیں کیا ۔کیونکہ آپ صبح سویرے ہی مکہ سے حنین کے لئے روانہ ہوگئے تھے اور امام بخاری کی روایت میں آنے اور جانے کے دونوں دنوں کو بھی شمار کرلیا گیا ہے۔ اس لئے انیس دن آپ مکہ میں مقیم رہے۔ (1) واللہ تعالیٰ اعلم۔

    اسی طرح اس میں بڑا اختلاف ہے کہ مکہ کونسی تاریخ میں فتح ہوا؟ اور آپ کس تاریخ کو مکہ میں فاتحانہ داخل ہوئے؟ امام بیہقی نے۱۳رمضان، امام مسلم نے ۱۶رمضان، امام احمدنے۱۸رمضان بتایا اور بعض روایات میں ۱۷ رمضان اور ۱۸ رمضان بھی مروی ہے۔ مگر محمد بن اسحاق نے اپنے مشائخ کی ایک جماعت سے روایت کرتے ہوئے فرمایا کہ ۲۰رمضان   ۸ھ؁ کو مکہ فتح ہوا۔ واللہ تعالیٰ اعلم۔(2) (زرقانی ج۲ ص ۲۹۹)
جنگ ِحنین
    ''حنین'' مکہ اور طائف کے درمیان ایک مقام کا نام ہے۔ تاریخ اسلام میں اس جنگ کا دوسرا نام ''غزوہ ہوازن'' بھی ہے۔ اس لئے کہ اس لڑائی میں ''بنی ہوازن'' سے مقابلہ تھا۔

    فتح مکہ کے بعد عام طورسے تمام عرب کے لوگ اسلام کے حلقہ بگوش ہوگئے کیونکہ ان میں اکثروہ لوگ تھے جو اسلام کی حقانیت کا پورا پورا یقین رکھنے کے باوجود
1۔۔۔۔۔۔المواہب اللدنیۃ و شرح الزرقانی، باب غزوۃ الفتح الاعظم، ج۳،ص۴۸۵۔۴۸۶    

2۔۔۔۔۔۔المواہب اللدنیۃ و شرح الزرقانی، باب غزوۃ الفتح الاعظم، ج۳،ص۳۹۶۔۳۹۷
Flag Counter