Brailvi Books

سیرتِ مصطفٰی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم
450 - 872
حق پرست پر بیعت اسلام کی۔ (1) (موطا امام مالک کتاب النکاح وغیرہ)

(۲)''صفوان بن امیہ''یہ امیہ بن خلف کے فرزند ہیں۔ اپنے باپ امیہ ہی کی طرح یہ بھی اسلام کے بہت بڑے دشمن تھے۔ فتح مکہ کے دن بھاگ کر جدہ چلے گئے۔ حضرت عمیر بن وہب رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے دربار رسالت میں ان کی سفارش پیش کی اور عرض کیا کہ یارسول اللہ!(عزوجل وصلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم) قریش کا ایک رئیس صفوان مکہ سے جلاوطن ہوا چاہتا ہے۔ حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے ان کو بھی معافی عطا فرما دی اور امان کے نشان کے طورپر حضرت عمیررضی اللہ تعالیٰ عنہ کو اپنا عمامہ عنایت فرمایا۔ چنانچہ وہ مقدس عمامہ لے کر ''جدہ''گئے اور صفوان کو مکہ لے کر آئے صفوان جنگ حنین تک مسلمان نہیں ہوئے ۔لیکن اس کے بعد اسلام قبول کرلیا۔ (2) (طبری ج ۳ ص ۶۴۵)

(۳)''کعب بن زہیر''یہ    ۹ھ؁ میں اپنے بھائی کے ساتھ مدینہ آکر مشرف بہ اسلام ہوئے اور حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی مدح میں اپنا مشہور قصیدہ ''بانت سعاد'' پڑھا۔ حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے خوش ہوکر ان کو اپنی چادر مبارک عنایت فرمائی۔ حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی یہ چادر مبارک حضرت کعب بن زہیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس تھی۔ حضرت امیر معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اپنے دورسلطنت میں ان کو دس ہزار درہم پیش کیا کہ یہ مقدس چادر ہمیں دے دو۔ مگر انہوں نے صاف انکار کردیا اور فرمایا کہ میں رسول اللہ عزوجل وصلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی یہ چادر مبارک ہرگز ہرگز کسی کو نہیں دے سکتا۔ لیکن آخر حضرت امیر
1۔۔۔۔۔۔الموطاء للامام مالک، کتاب النکاح، باب نکاح المشرک اذا اسلمت زوجتہ قبلہ، 

الحدیث:۱۱۸۰، ج۲، ص۹۴وشرح الزرقانی علی المواھب، باب غزوۃ الفتح 

الاعظم، ج۳،ص۴۲۴،۴۲۵ ملخصاً

2۔۔۔۔۔۔مدارج النبوت ، قسم سوم ، باب ہفتم ،ج۲،ص۲۹۹ملخصاً
Flag Counter