Brailvi Books

سیرتِ مصطفٰی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم
449 - 872
 (۲)'' حویرث بن نقید''یہ شاعر تھااور حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی ہجو لکھا کرتا تھا اور خونی مجرم بھی تھا۔ حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اس کو قتل کیا۔

(۳)''مقیس بن صبابہ ''اس کو نمیلہ بن عبداللہ نے قتل کیا۔ یہ بھی خونی تھا۔

(۴)''حارث بن طلاطلہ''یہ بھی بڑا ہی موذی تھا۔ حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اس کو قتل کیا۔

(۵)'' قریبہ''یہ ابن خطل کی لونڈی تھی۔ رسول اللہ عزوجل و صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی ہجو گایا کرتی تھی یہ بھی قتل کی گئی۔(1)
مکہ سے فرار ہوجانے والے
    چار اشخاص مکہ سے بھاگ نکلے تھے ان لوگوں کا مختصر تذکرہ یہ ہے:

(۱)''عکرمہ بن ابی جہل''یہ ابوجہل کے بیٹے ہیں۔ اس لئے ان کی اسلام دشمنی کا کیا کہنا؟ یہ بھاگ کریمن چلے گئے لیکن ان کی بیوی ''اُمِ حکیم'' جو ابوجہل کی بھتیجی تھیں انہوں نے اسلام قبول کرلیااوراپنے شوہر عکرمہ کے لئے بارگاہ رسالت میں معافی کی درخواست پیش کی۔ حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے معاف فرمادیا۔ اُمِ حکیم خود یمن گئیں اور معافی کا حال بیان کیا۔ عکرمہ حیران رہ گئے اور انتہائی تعجب کے ساتھ کہا کہ کیا مجھ کو محمد(صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم)نے معاف کردیا! بہرحال اپنی بیوی کے ساتھ بارگاہ رسالت میں مسلمان ہوکر حاضر ہوئے حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے جب ان کو دیکھا تو بے حد خوش ہوئے اور اس تیزی سے ان کی طرف بڑھے کہ جسم اطہر سے چادر گر پڑی۔ پھر حضرت عکرمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے خوشی خوشی حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے دست
1۔۔۔۔۔۔مدارج النبوت ، قسم سوم ، باب ہفتم ،ج۲،ص۳۰۰،۳۰۴ ملخصاً
Flag Counter