| سیرتِ مصطفٰی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم |
اس طرح بانی کعبہ حضرت خلیل اللہ علیہ الصلوٰۃ والسلام کے جانشین حضور رحمۃٌ للعالمین صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے اپنے مورث اعلیٰ کے مشن کو مکمل فرما دیا اور درحقیقت فتح مکہ کا سب سے بڑا یہی مقصد تھا کہ شرک و بت پرستی کا خاتمہ اور توحید خداوندی کا بول بالا ہوجائے۔ چنانچہ یہ عظیم مقصد بحمدہ تعالیٰ بدرجہ اتم حاصل ہوگیا کہ ؎
آنجا کہ بود نعرہ کفارو مشرکاں اکنوں خروش نعرہ اللہ اکبر استچند ناقابل معافی مجرمین
جب مکہ فتح ہوگیا تو حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے عام معافی کا اعلان فرمادیا۔ مگر چند ایسے مجرمین تھے جن کے بارے میں تاجداردوعالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے یہ فرمان جاری فرما دیا کہ یہ لوگ اگر اسلام نہ قبول کریں تو یہ لوگ جہاں بھی ملیں قتل کردئیے جائیں خواہ وہ غلاف کعبہ ہی میں کیوں نہ چھپے ہوں۔ ان مجرموں میں سے بعض نے تو اسلام قبول کرلیا اور بعض قتل ہوگئے ان میں سے چند کا مختصر تذکرہ تحریر کیا جاتا ہے: (۱)''عبدالعزیٰ بن خطل'' یہ مسلمان ہوگیا تھا اس کو حضورصلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے زکوٰۃ کے جانور وصول کرنے کے لئے بھیجا اور ساتھ میں ایک دوسرے مسلمان کو بھی بھیج دیاکسی بات پر دونوں میں تکرار ہوگئی تو اس نے اس مسلمان کو قتل کردیا اور قصاص کے ڈر سے تمام جانوروں کو لے کر مکہ بھاگ نکلا اور مرتد ہوگیا۔ فتح مکہ کے دن یہ بھی ایک نیزہ لے کر مسلمانوں سے لڑنے کے لئے گھر سے نکلا تھا۔ لیکن مسلم افواج کا جلال دیکھ کر کانپ اٹھا اور نیزہ پھینک کر بھاگا اور کعبہ کے پردوں میں چھپ گیا۔ حضرت سعید بن حریث مخزومی اور ابوبرزہ اسلمی رضی اللہ تعالیٰ عنہما نے مل کر اس کو قتل کردیا۔ (1)(زرقانی ج ۲ ص ۳۲۲)
1۔۔۔۔۔۔مدارج النبوت ، قسم سوم ، باب ہفتم ،ج۲،ص۲۹۶