Brailvi Books

سیرتِ مصطفٰی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم
447 - 872
لگے اور عرض کیا کہ مجھے اس وقت آپ کی نبوت کا یقین حاصل ہوگیاکیونکہ آپ نے میرے دل میں چھپے ہوئے خیال کو جان لیا۔(1) (زرقانی ج ۲ ص ۳۴۶)

    یہ بھی روایت ہے کہ جب سب سے پہلے حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے ان پر اسلام پیش فرمایا تھا تو انہوں نے کہا تھاکہ پھر میں اپنے معبود عزیٰ کو کیا کروں گا؟ تو حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے برجستہ فرمایا تھا کہ ''تم عزیٰ پر پاخانہ پھر دینا'' چنانچہ حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے جب عزیٰ کو توڑنے کے لئے حضرت خالد بن الولید رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو روانہ فرمایا توساتھ میں حضرت ابوسفیان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو بھی بھیجا اور انہوں نے اپنے ہاتھ سے اپنے معبود عزیٰ کو توڑ ڈالا۔ یہ محمد بن اسحاق کی روایت ہے اور ابن ہشام کی روایت یہ ہے کہ عزیٰ کو حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے توڑا تھا۔(2) واللہ اعلم۔ (زرقانی ج۲ ص ۳۴۹)
بت پرستی کا خاتمہ
    گزشتہ اوراق میں ہم تحریر کرچکے کہ خانہ کعبہ کے تمام بتوں اور دیواروں کی تصاویر کو توڑ پھوڑ کر اور مٹاکر مکہ کو تو حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے بت پرستی کی لعنت سے پاک کر ہی دیا تھا لیکن مکہ کے اطراف میں بھی بت پرستی کے چند مراکز تھے یعنی لات، مناۃ، سواع، عزیٰ یہ چند بڑے بڑے بت تھے جو مختلف قبائل کے معبود تھے۔ حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم کے لشکروں کو بھیج کر ان سب بتوں کو توڑ پھوڑ کر بت پرستی کے سارے طلسم کو تہس نہس کردیا اور مکہ نیز اس کے اطراف و جوانب کے تمام بتوں کو نیست و نابود کردیا۔(3) (زرقانی ج ۲ص ۳۴۷تا ص ۳۴۹)
1۔۔۔۔۔۔شرح الزرقانی علی المواھب، باب غزوۃ الفتح الاعظم، ج۳،ص۴۸۵

2۔۔۔۔۔۔شرح الزرقانی علی المواھب، باب ھدم مناۃ، ج۳،ص۴۸۷۔۴۹۱

3۔۔۔۔۔۔المواھب اللدنیۃ مع شرح الزرقانی، ہدم العزیٰ وسواع ومناۃ،ج۳،ص۴۸۷۔۴۹۰
Flag Counter