Brailvi Books

سیرتِ مصطفٰی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم
446 - 872
صادق الایمان مسلمان ہوگئے اور ایمان ہی پر ان دونوں کا خاتمہ ہوا۔ (رضی اللہ تعالیٰ عنہما)

    حضرت بی بی عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کا بیان ہے کہ ہند بنت عتبہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا بارگاہ نبوت میں آئیں اور یہ عرض کیا کہ یارسول اللہ! عزوجل وصلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم روئے زمین پر آپ کے گھر والوں سے زیادہ کسی گھر والے کا ذلیل ہونا مجھے محبوب نہ تھا۔ مگر اب میرا یہ حال ہے کہ روئے زمین پر آپ کے گھروالوں سے زیادہ کسی گھروالے کا عزت دار ہونا مجھے پسند نہیں۔ (1) (بخاری ج۱ ص ۵۳۹باب ذکر ہند بنت عتبہ)

    اسی طرح حضرت ابوسفیان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے بارے میں محدث ابن عساکر کی ایک روایت ہے کہ یہ مسجدحرام میں بیٹھے ہوئے تھے اور حضورصلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم سامنے سے نکلے تو انہوں نے اپنے دل میں یہ کہا کہ کونسی طاقت ان کے پاس ایسی ہے کہ یہ ہم پر غالب رہتے ہیں تو حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے ان کے دل میں چھپے ہوئے خیال کو جان لیا اور قریب آکر آپ نے ان کے سینے پرہاتھ مارا اور فرمایا کہ ہم خدا کی طاقت سے غالب آجاتے ہیں۔ یہ سن کر انہوں نے بلند آواز سے کہا کہ ''میں شہادت دیتا ہوں کہ بے شک آپ اللہ کے رسول ہیں۔'' اور محدث حاکم اور ان کے شاگرد امام بیہقی نے حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے یہ روایت کی ہے کہ حضرت ابوسفیان رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کو دیکھ کر اپنے دل میں کہا کہ ''کاش!میں ایک فوج جمع کرکے دوبارہ ان سے جنگ کرتا''ادھر ان کے دل میں یہ خیال آیا ہی تھا کہ حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے آگے بڑھ کر ان کے سینہ پر ہاتھ مارا اور فرمایا کہ ''اگر تو ایسا کریگا تو اللہ تعالیٰ تجھے ذلیل و خوار کردے گا۔'' یہ سن کر حضرت ابوسفیان رضی اللہ تعالیٰ عنہ توبہ و استغفار کرنے
1۔۔۔۔۔۔صحیح البخاری،کتاب مناقب الانصار، باب ذکر ھند بنت عتبۃ بن ربیعۃ رضی اللہ 

تعالیٰ عنہا، الحدیث:۳۸۲۵، ج۲، ص۵۶۷
Flag Counter