Brailvi Books

سیرتِ مصطفٰی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم
445 - 872
نکال کر ایک دھاگہ میں پرو کر گلے کا ہار بنایا تھا۔ جب یہ بیعت کے لئے آئیں تو حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم سے نہایت دلیری کے ساتھ گفتگو کی۔ ان کا مکالمہ حسب ذیل ہے۔

رسول اللہ عزوجل وصلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم    تم خدا کے ساتھ کسی کو شریک مت کرنا۔

ہند بنت عتبہ            یہ اقرار آپ نے مردوں سے تو نہیں لیا لیکن                     بہرحال ہم کو منظور ہے۔

رسول اللہ عزوجل و صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم    چوری مت کرنا۔

ہند بنت عتبہ            میں اپنے شوہر(ابوسفیان)کے مال میں سے                     کچھ لے لیا کرتی ہوں۔معلوم نہیں یہ بھی                     جائز ہے یا نہیں؟

رسول اللہ عزوجل و صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم     اپنی اولاد کو قتل نہ کرنا۔

ہندبنت عتبہ            ہم نے تو بچوں کو پالا تھا اور جب وہ بڑے                     ہوگئے تو آپ نے جنگ بدر میں ان کو مار                     ڈالا۔ اب آپ جانیں اور وہ جانیں۔ (1)

                 (طبری ج۳ ص ۶۴۳ مختصراً)

    بہرحال حضرت ابوسفیان اور ان کی بیوی ہند بنت عتبہ دونوں مسلمان ہوگئے (رضی اللہ تعالیٰ عنہما) لہٰذا ان دونوں کے بارے میں بدگمانی یا ان دونوں کی شان میں بدزبانی روافض کا مذہب ہے۔ اہل سنت کے نزدیک ان دونوں کا شمار صحابہ اور صحابیات رضی اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین کی فہرست میں ہے۔

    ابتداء میں گو ان دونوں کے ایمان میں کچھ تذبذب رہاہو مگر بعد میں یہ دونوں
1۔۔۔۔۔۔تاریخ الطبری،الجزئ۲،ص۳۷۔۳۸،مختصراً ۔المکتبۃ الشاملۃ
Flag Counter