Brailvi Books

سیرتِ مصطفٰی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم
444 - 872
بن اسید رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے دل میں نور ایمان کا سورج چمک اٹھا اور وہ صادق الایمان مسلمان بن گئے۔ چنانچہ مکہ سے روانہ ہوتے وقت حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے انہی کو مکہ کا حاکم بنا دیا۔(1) (سیرت ابن ہشام ج۲ ص ۴۱۳وص۴۴۰)
بیعتِ اسلام
    اس کے بعد حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کوہ صفا کی پہاڑی کے نیچے ایک بلند مقام پر بیٹھے اور لوگ جوق در جوق آکر آپ کے دست حق پرست پر اسلام کی بیعت کرنے لگے۔ مردوں کی بیعت ختم ہوچکی تو عورتوں کی باری آئی حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم ہر بیعت کرنے والی عورت سے جب وہ تمام شرائط کا اقرار کرلیتی تو آپ صلی  اللہ تعالیٰ علیہ وسلم اس سے فرما دیتے تھے کہ''قَدْ بَایَعْتُکِ'' میں نے تجھ سے بیعت لے لی۔ حضرت بی بی عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کا بیان ہے کہ خدا کی قسم!آپ صلی  اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے ہاتھ نے بیعت کے وقت کسی عورت کے ہاتھ کو نہیں چھوا۔ صرف کلام ہی سے بیعت فرما لیتے تھے۔ (2)    

(بخاری ج۱ ص ۳۷۵ کتاب الشروط)

    انہی عورتوں میں نقاب اوڑھ کر ہندبنت عتبہ بن ربیعہ بھی بیعت کے لئے آئیں جو حضرت ابوسفیان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی بیوی اور حضرت امیر معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی والدہ ہیں۔ یہ وہی ہند ہیں جنہوں نے جنگ ِ اُحد میں حضرت حمزہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا شکم چاک کرکے ان کے جگر کو نکال کر چبا ڈالا تھا اور ان کے کان ناک کو کاٹ کر اور آنکھ کو
1۔۔۔۔۔۔السیرۃ النبویۃ لابن ھشام،باب دخول الرسول صلی اللہ علیہ وسلم الحرم،ص۴۷۴ملخصاً 

والمواہب اللدنیۃ وشرح الزرقانی، باب غزوۃحنین،ج۳،ص۴۹۸ملخصاً

2۔۔۔۔۔۔صحیح البخاری، کتاب الشروط، باب مایجوز من الشروط...الخ، الحدیث: ۲۷۱۳، 

ج۲، ص۲۱۷ ملخصاً
Flag Counter