Brailvi Books

سیرتِ مصطفٰی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم
443 - 872
اَلْمَحْیَا مَحْیَاکُمْ وَالْمَمَاتُ مَمَاتُکُمْ (1)(سیرت ابن ہشام ج۲ ص ۴۱۶)
اب تو ہماری زندگی اور وفات تمہارے ہی ساتھ ہے۔

یہ سن کر فرط مسرت سے انصار کی آنکھوں سے آنسو جاری ہوگئے اور سب نے کہا کہ یارسول اللہ!(عزوجل وصلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم )ہم لوگوں نے جو کچھ دل میں خیال کیا یا زبان سے کہا اس کا سبب آپ کی ذات مقدسہ کے ساتھ ہمارا جذبہ عشق ہے ۔ کیونکہ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی جدائی کا تصور ہمارے لئے ناقابل برداشت ہورہا تھا۔(2)(زرقانی ج ۲ص ۳۳۳ و سیرت ابن ہشام ج ۲ص ۴۱۶)
کعبہ کی چھت پر اذان
جب نماز کا وقت آیا تو حضورصلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے حضرت بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو حکم دیا کہ کعبہ کی چھت پر چڑھ کر اذان دیں۔ جس وقت اَللہُ اَکْبَرُ اَللہُ اَکْبَرُ کی ایمان افروز صدا بلند ہوئی تو حرم کے حصار اور کعبہ کے درودیوار پر ایمانی زندگی کے آثار نمودار ہوگئے مگر مکہ کے وہ نومسلم جو ابھی کچھ ٹھنڈے پڑ گئے تھے اذان کی آواز سن کر ان کے دلوں میں غیرت کی آگ پھر بھڑک اٹھی۔ چنانچہ روایت ہے کہ حضرت عتاب بن اُسید نے کہا کہ خدا نے میرے باپ کی لاج رکھ لی کہ اس آواز کو سننے سے پہلے ہی اس کو دنیا سے اٹھا لیا اور ایک دوسرے سردار قریش کے منہ سے نکلا کہ ''اب جینا بے کار ہے۔'' (3) (اصابہ تذکرہ عتاب بن اسید ج۲ص ۴۵۱ و زرقانی ج۲ ص ۳۴۶)

    مگر اس کے بعد حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے فیض صحبت سے حضرت عتاب
1۔۔۔۔۔۔السیرۃ النبویۃ لابن ھشام،باب تعطیم الاصنام،ص۴۷۵

2۔۔۔۔۔۔شرح الزرقانی علی المواھب،باب غزوۃ الفتح الاعظم،ج۳،ص۴۵۹

3۔۔۔۔۔۔شرح الزرقانی علی المواھب، باب غزوۃ الفتح الاعظم، ج۳،ص۴۸۴
Flag Counter