Brailvi Books

سیرتِ مصطفٰی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم
442 - 872
چشم اقوام یہ نظارہ ابد تک دیکھے

                            رفعت شانِ رَفَعْنَا لَکَ ذِکْرَکَ دیکھے
 دوسرا خطبہ
فتح مکہ کے دوسرے دن بھی آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے ایک خطبہ دیا جس میں حرم کعبہ کے احکام و آداب کی تعلیم دی کہ حرم میں کسی کا خون بہانا،جانوروں کا مارنا، شکار کرنا، درخت کاٹنا، اذخر کے سوا کوئی گھاس کاٹنا حرام ہے اور اللہ عزوجل نے گھڑی بھر کے لئے اپنے رسول علیہ السلام کو حرم میں جنگ کرنے کی اجازت دی پھر قیامت تک کے لئے کسی کو حرم میں جنگ کی اجازت نہیں ہے۔ اللہ عزوجل نے اس کو حرم بنادیا ہے۔ نہ مجھ سے پہلے کسی کے لئے اس شہر میں خونریزی حلال کی گئی نہ میرے بعد قیامت تک کسی کے لئے حلال کی جائے گی۔(1) (بخاری ج۲ ص ۶۱۷ فتح مکہ)
انصار کو فراق رسول صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کا ڈر
انصار نے قریش کے ساتھ جب رسول اللہ عزوجل وصلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے اس کریمانہ حسن سلوک کو دیکھا اور حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کچھ دنوں تک مکہ میں ٹھہر گئے تو انصار کو یہ خطرہ لاحق ہوگیا کہ شاید رسول اللہ عزوجل وصلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم پر اپنی قوم اور وطن کی محبت غالب آگئی ہے کہیں ایسا نہ ہو کہ آپ مکہ میں اقامت فرمالیں اور ہم لوگ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم سے دور ہوجائیں جب حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کو انصار کے اس خیال کی اطلاع ہوئی تو آپ نے فرمایا کہ معاذاللہ!اے انصار!
1۔۔۔۔۔۔صحیح البخاری،کتاب المغازی، باب ۵۵، الحدیث:۴۳۱۳، ص۱۱۰ والسیرۃ النبویۃ 

لابن ھشام، باب دخول الرسول صلی اللہ علیہ وسلم الحرم، ص۴۷۴ والمواہب 

اللدنیۃ و شرح الزرقانی، باب غزوۃ الفتح الاعظم، ج۳، ص۴۴۷
Flag Counter