اس کے بعد تاجدارِ دوعالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے شہنشاہ اسلام کی حیثیت سے حرم الٰہی میں سب سے پہلا دربارِعام منعقد فرمایا جس میں افواج اسلام کے علاوہ ہزاروں کفارومشرکین کے خواص و عوام کا ایک زبردست ازدحام تھا۔ اس شہنشاہی خطبہ میں آپ نے صرف اہل مکہ ہی سے نہیں بلکہ تمام اقوام عالم سے خطابِ عام فرماتے ہوئے یہ ارشاد فرمایا کہ
''ایک خدا کے سوا کوئی معبود نہیں۔ اس کا کوئی شریک نہیں۔ اس نے اپنا وعدہ سچ کر دکھایا۔ اس نے اپنے بندے (حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم) کی مدد کی اور کفار کے تمام لشکروں کو تنہا شکست دے دی، تمام فخر کی باتیں، تمام پرانے خونوں کا بدلہ، تمام پرانے خون بہا، اور جاہلیت کی رسمیں سب میرے پیروں کے نیچے ہیں۔ صرف کعبہ کی تولیت اور حجاج کوپانی پلانا،یہ دواعزازاس سے مستثنیٰ ہیں۔اے قوم قریش! اب جاہلیت کا غرور اور خاندانوں کا افتخار خدا نے مٹا دیا۔ تمام لوگ حضرت آدم علیہ السلام کی نسل سے ہیں اور حضرت آدم علیہ السلام مٹی سے بنائے گئے ہیں۔''
اس کے بعد حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے قرآن مجید کی یہ آیت تلاوت فرمائی
1۔۔۔۔۔۔المواھب اللدنیۃ مع شرح الزرقانی، باب غزوۃ الفتح الاعظم، ج۳،ص۴۶۹۔۴۷۰