کی آیت تلاوت فرماتے جاتے تھے، یعنی حق آگیا اور باطل مٹ گیا اور باطل مٹنے ہی کی چیز تھی۔(2) (بخاری ج ۲ ص ۶۱۴فتح مکہ وغیرہ)
پھر ان بتوں کو جو عین کعبہ کے اندر تھے۔ حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ وہ سب نکالے جائیں۔ چنانچہ وہ سب بت نکال باہر کئے گئے۔ انہی بتوں میں حضرت ابراہیم و حضرت اسمٰعیل علیہما السلام کے مجسمے بھی تھے جن کے ہاتھوں میں فال کھولنے کے تیر تھے۔ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے ان کو دیکھ کر فرمایا کہ اللہ تعالیٰ ان کافروں کو مار ڈالے۔ ان کافروں کو خوب معلوم ہے کہ ان دونوں پیغمبروں نے کبھی بھی فال نہیں کھولا۔ جب تک ایک ایک بت کعبہ کے اندر سے نہ نکل گیا، آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے کعبہ کے اندر قدم نہیں رکھا جب تمام بتوں سے کعبہ پاک ہوگیا تو آپ اپنے ساتھ حضرت اسامہ بن زید اور حضرت بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہما اور عثمان بن طلحہ حجبی کو لے کر خانہ کعبہ کے اندر تشریف لے گئے اور بیت اللہ شریف کے تمام گوشوں میں تکبیر پڑھی اور دو رکعت نماز بھی ادا فرمائی اس کے بعد باہر تشریف لائے۔(3)
(بخاری ج۱ ص ۲۱۸ باب من کبر فی نواحی الکعبۃ و بخاری ج۲ ص ۶۱۴ فتح مکہ وغیرہ)
کعبہ مقدسہ کے اندر سے جب آپ باہرنکلے توعثمان بن طلحہ کو بلاکر کعبہ کی