| سیرتِ مصطفٰی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم |
جس کا ترجمہ یہ ہے:
اے لوگو!ہم نے تم کو ایک مرد اور ایک عورت سے پیدا کیا اور تمہارے لئے قبیلے اور خاندان بنادئیے تاکہ تم آپس میں ایک دوسرے کی پہچان رکھو لیکن خدا کے نزدیک سب سے زیادہ شریف وہ ہے جو سب سے زیادہ پرہیزگار ہے۔ یقینا اللہ تعالیٰ بڑا جاننے والا اور خبر رکھنے والا ہے۔(1)
بے شک اللہ نے شراب کی خریدوفروخت کو حرام فرما دیا ہے۔(2)
(سیرت ابن ہشام ج ۲ ص ۴۱۲مختصراً و بخاری وغیرہ)کفارِمکہ سے خطاب
اس کے بعد شہنشاہ کونین صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے اس ہزاروں کے مجمع میں ایک گہری نگاہ ڈالی تو دیکھا کہ سرجھکائے، نگاہیں نیچی کئے ہوئے لرزاں و ترساں اشراف قریش کھڑے ہوئے ہیں۔ ان ظالموں اور جفاکاروں میں وہ لوگ بھی تھے جنہوں نے آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے راستوں میں کانٹے بچھائے تھے۔ وہ لوگ بھی تھے جو بارہا آپ پر پتھروں کی بارش کرچکے تھے۔ وہ خونخوار بھی تھے جنہوں نے بار بار آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم پر قاتلانہ حملے کئے تھے۔ وہ بے رحم و بے درد بھی تھے جنہوں نے آپ کے دندان مبارک کو شہید اور آپ کے چہرهٔ انور کو لہولہان کر ڈالا تھا۔ وہ اوباش بھی تھے جو برسہابرس تک اپنی بہتان تراشیوں اور شرمناک گالیوں سے آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے قلب مبارک کو زخمی کرچکے تھے۔ وہ سفاک و درندہ صفت بھی تھے جو آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ
1۔۔۔۔۔۔پ۲۶،الحجرٰت:۱۳ 2۔۔۔۔۔۔السیرۃ النبویۃ لابن ھشام، باب دخول الرسول الحرم،ص۴۷۳ وصحیح البخاری، کتاب المغازی، باب ۵۵، الحدیث:۴۲۹۶، ج۳،ص۱۰۶