Brailvi Books

سیرتِ مصطفٰی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم
435 - 872
ہے۔ لیکن میرے بھائی حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ ان دونوں کو اس جرم میں قتل کرنا چاہتے ہیں کہ ان دونوں نے حضرت خالد بن الولید رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی فوج سے جنگ کی ہے تو حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اے اُمِ ہانی!رضی اللہ تعالیٰ عنہاجس کو تم نے امان دے دی اس کے لئے ہماری طرف سے بھی امان ہے۔(1) (زرقانی ج ۲ ص ۳۲۶)
بیت اللہ میں داخلہ
حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کا جھنڈا ''حجون'' میں جس کو آج کل جنۃ المعلیٰ کہتے ہیں ''مسجدالفتح''کے قریب میں گاڑا گیا پھر آپ اپنی اونٹنی پر سوار ہوکر اور حضرت اسامہ بن زیدرضی اللہ تعالیٰ عنہ کو اونٹنی پر اپنے پیچھے بٹھاکر مسجد حرام کی طرف روانہ ہوئے اور حضرت بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور کعبہ کے کلید بردار عثمان بن طلحہ بھی آپ کے ساتھ تھے۔ آپ نے مسجدحرام میں اپنی اونٹنی کو بٹھایا اور کعبہ کا طواف کیا اور حجراسود کو بوسہ دیا۔(2) 

             (بخاری ج۲ ص ۶۱۴ وغیرہ)

یہ انقلاب زمانہ کی ایک حیرت انگیز مثال ہے کہ حضرت ابراہیم خلیل اللہ علیہ الصلوۃ والسلام جن کا لقب ''بت شکن'' ہے ان کی یادگار خانہ کعبہ کے اندرونِ حصار تین سو ساٹھ بتوں کی قطار تھی۔ فاتح مکہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کا حضرت خلیل علیہ السلام کاجانشینِ جلیل ہونے کی حیثیت سے فرض اولین تھا کہ یادگار خلیل کو بتوں کی نجس اور گندی آلائشوں سے پاک کریں۔ چنانچہ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم خود بہ نفس نفیس ایک چھڑی لے کر کھڑے ہوئے اور ان بتوں کو چھڑی کی نوک سے ٹھونکے مار مار کر گراتے جاتے
1۔۔۔۔۔۔شرح الزرقانی علی المواھب، باب غزوۃ الفتح الاعظم، ج۳،ص۴۶۴

2۔۔۔۔۔۔صحیح البخاری،کتاب المغازی،باب دخول النبی صلی اللہ علیہ وسلم من اعلی 

مکۃ،الحدیث:۴۲۸۹، ج۳،ص۱۰۴
Flag Counter