Brailvi Books

سیرتِ مصطفٰی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم
432 - 872
ابوسفیان نے بتایا کہ محمد(صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم) نے ان لوگوں کو بھی امان دے دی ہے جو اپنے دروازے بند کرلیں یا مسجد حرام میں داخل ہوجائیں یا ہتھیار ڈال دیں۔ ابوسفیان کا یہ بیان سن کر کوئی ابوسفیان کے مکان میں چلا گیا۔ کوئی مسجد حرام کی طرف بھاگا۔ کوئی اپنا ہتھیار زمین پر رکھ کر کھڑا ہوگیا۔(1)(زرقانی ج ۲ص ۳۱۳)

حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے اس اعلان رحمت نشان یعنی مکمل امن و امان کا فرمان جاری کردینے کے بعد ایک قطرہ خون بہنے کا کوئی امکان ہی نہیں تھا۔ لیکن عکرمہ بن ابوجہل و صفوان بن امیہ و سہیل بن عمرو اور جماش بن قیس نے مقام ''خندمہ'' میں مختلف قبائل کے اوباش کو جمع کیا تھا۔ ان لوگوں نے حضرت خالد بن الولید رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی فوج میں سے دو آدمیوں حضرت کرزبن جابر فہری اور حبیش بن اشعر رضی اللہ تعالیٰ عنہما کو شہید کردیا اور اسلامی لشکر پر تیر برسانا شروع کردیا۔ بخاری کی روایت میں انہی دو حضرات کی شہادت کا ذکر ہے مگر زرقانی وغیرہ کتابوں سے پتا چلتا ہے کہ تین صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم کو کفارقریش نے قتل کردیا۔ دو وہ جواو پر ذکر کئے گئے اور ایک حضرت مسلمہ بن المیلاء رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور بارہ یا تیرہ کفار بھی مارے گئے اور باقی میدان چھوڑ کر بھاگ نکلے۔(2) (بخاری ج ۲ ص ۶۱۳ و زرقانی ج ۲ ص ۳۱۰)

    حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے جب دیکھا کہ تلواریں چمک رہی ہیں تو آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم نے دریافت فرمایا کہ میں نے تو خالد بن الولید رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو جنگ
1۔۔۔۔۔۔المواھب اللدنیۃ مع شرح الزرقانی،باب غزوۃ الفتح الاعظم،ج۳،ص۴۱۷۔۴۲۲ملتقطاً

2۔۔۔۔۔۔صحیح البخاری،کتاب المغازی، باب این رکز النبی صلی اللہ علیہ وسلم...الخ ، 

الحدیث:۴۲۸۰، ج۳، ص۱۰۱،۱۰۲وشرح الزرقانی علی المواھب، باب غزوۃ 

الفتح الاعظم، ج۳، ص۴۱۵،۴۱۶ ملتقطاً
Flag Counter