Brailvi Books

سیرتِ مصطفٰی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم
433 - 872
کرنے سے منع کردیا تھا۔ پھر یہ تلواریں کیسی چل رہی ہیں؟ لوگوں نے عرض کیا کہ پہل کفار کی طرف سے ہوئی ہے۔ اس لئے لڑنے کے سوا حضرت خالد بن الولید رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی فوج کے لئے کوئی چارہ کار ہی نہیں رہ گیا تھا۔ یہ سن کر ارشاد فرمایا کہ قضاء الٰہی یہی تھی اور خدا نے جو چاہا وہی بہتر ہے۔ (1)(زرقانی ج ۲ ص ۳۱۰)
تاجداردوعالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کا مکہ میں داخلہ
حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم جب فاتحانہ حیثیت سے مکہ میں داخل ہونے لگے تو آپ اپنی اونٹنی ''قصواء'' پر سوار تھے۔ ایک سیاہ رنگ کا عمامہ باندھے ہوئے تھے اور بخاری میں ہے کہ آپ کے سر پر ''مغفر'' تھا۔ آپ کے ایک جانب حضرت ابوبکر صدیق اور دوسری جانب اسید بن حضیر رضی اللہ تعالیٰ عنہما تھے اور آپ کے چاروں طرف جوش میں بھرا ہوا اور ہتھیاروں میں ڈوبا ہوا لشکر تھا جس کے درمیان کو کبۂ نبوی تھا۔ اس شان و شوکت کو دیکھ کر ابوسفیان نے حضرت عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے کہا کہ اے عباس! تمہارا بھتیجا تو بادشاہ ہوگیا۔ حضرت عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے جواب دیا کہ تیرا برا ہو اے ابوسفیان!یہ بادشاہت نہیں ہے بلکہ یہ ''نبوت'' ہے۔ اس شاہانہ جلوس کے جاہ و جلال کے باوجود شہنشاہ رسالت صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی شانِ تواضع کا یہ عالم تھا کہ آپ سورهٔ فتح کی تلاوت فرماتے ہوئے اس طرح سرجھکائے ہوئے اونٹنی پر بیٹھے ہوئے تھے کہ آپ کا سر اونٹنی کے پالان سے لگ لگ جاتا تھا۔ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی یہ کیفیت تواضع خداوند قدوس کا شکر ادا کرنے اور اس کی بارگاہِ عظمت میں اپنے عجزونیازمندی کا اظہار کرنے کے لئے تھی۔(2) (زرقانی ج ۲ ص ۳۲۰ و ص ۳۲۱)
1۔۔۔۔۔۔المواھب اللدنیۃ مع شرح الزرقانی، باب غزوۃ الفتح الاعظم، ج۳،ص۴۱۷

2۔۔۔۔۔۔المواھب اللدنیۃ مع شرح الزرقانی، باب غزوۃ الفتح الاعظم، ج۳،ص۴۳۲،۴۳۴
Flag Counter