Brailvi Books

سیرتِ مصطفٰی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم
431 - 872
جو شخص اپنا دروازہ بند کر لے گا اس کے لئے امان ہے۔

جو کعبہ میں داخل ہوجائے گا اس کے لئے امان ہے۔''

اس موقع پر حضرت عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے عرض کیا کہ یارسول اللہ! عزوجل وصلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم ابوسفیان ایک فخرپسند آدمی ہے اس کے لئے کوئی ایسی امتیازی بات فرما دیجئے کہ اس کا سر فخر سے اونچا ہوجائے تو آپ نے فرما دیا کہ

''جوابوسفیان کے گھر میں داخل ہوجائے اس کے لئے امان ہے۔''

اس کے بعد ابوسفیان مکہ میں بلند آواز سے پکار پکار کر اعلان کرنے لگا کہ اے قریش!محمد(صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم)اتنا بڑا لشکر لے کر آگئے ہیں کہ اس کا مقابلہ کرنے کی کسی میں بھی طاقت نہیں ہے جو ابوسفیان کے گھر میں داخل ہوجائے اس کے لئے امان ہے۔ ابوسفیان کی زبان سے یہ کم ہمتی کی بات سن کر اس کی بیوی ہند بنت عتبہ جل بھن کر کباب ہوگئی اور طیش میں آکر ابوسفیان کی مونچھ پکڑ لی اور چلا کر کہنے لگی کہ اے بنی کنانہ! اس کم بخت کو قتل کردو یہ کیسی بزدلی اور کم ہمتی کی بات بک رہا ہے۔ ہند کی اس چیخ و پکار کی آواز سن کر تمام بنوکنانہ کا خاندان ابوسفیان کے مکان میں جمع ہوگیا اور ابوسفیان نے صاف صاف کہہ دیا کہ اس وقت غصہ اور طیش کی باتوں سے کچھ کام نہیں چل سکتا۔ میں پورے اسلامی لشکر کو اپنی آنکھ سے دیکھ کر آیا ہوں اور میں تم لوگوں کو یقین دلاتا ہوں کہ اب ہم لوگوں سے محمدصلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کا مقابلہ نہیں ہوسکتا۔ یہ خیریت ہے کہ انہوں نے اعلان کردیا ہے کہ جو ابوسفیان کے مکان میں چلا جائے اس کے لئے امان ہے۔ لہٰذا زیادہ سے زیادہ لوگ میرے مکان میں آکر پناہ لے لیں۔ ابوسفیان کے خاندان والوں نے کہا کہ تیرے مکان میں بھلا کتنے انسان آسکیں گے؟