Brailvi Books

سیرتِ مصطفٰی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم
430 - 872
اور ایک روایت میں یہ ہے کہ جب ابوسفیان نے بارگاہ رسول میں یہ شکایت کی کہ یارسول اللہ!عزوجل وصلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم ابھی ابھی سعد بن عبادہ یہ کہتے ہوئے گئے ہیں کہ
اَلْیَوْمَ یَوْمُ الْمَلْحَمَۃ
آج گھمسان کی لڑائی کا دن ہے۔

تو حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے خفگی کا اظہار فرماتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ سعد بن عبادہ نے غلط کہا، بلکہ اے ابوسفیان!
اَلْیَوْمَ یَوْمُ الْمَرْحَمَۃ
آج کا دن تو رحمت کا دن ہے۔ (1) (زرقانی ج۲ص ۳۰۶)

    پھر فاتحانہ شان و شوکت کے ساتھ بانی کعبہ کے جانشین حضور رحمۃ للعالمین صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے مکہ کی سرزمین میں نزول اجلال فرمایا اور حکم دیا کہ میرا جھنڈا مقام ''حجون'' کے پاس گاڑا جائے اور حضرت خالد بن ولید رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے نام فرمان جاری فرمایا کہ وہ فوجوں کے ساتھ مکہ کے بالائی حصہ یعنی ''کداء'' کی طرف سے مکہ میں داخل ہوں۔ (2)(بخاری ج ۲ ص ۶۱۳ باب این رکزالنبی رایۃ و زرقانی ج۲ ص ۳۰۴ تا ص ۳۰۶)
فاتح مکہ کا پہلا فرمان
تاجدار دوعالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے مکہ کی سرزمین میں قدم رکھتے ہی جو پہلا فرمان جاری فرمایا وہ یہ اعلان تھا کہ جس کے لفظ لفظ میں رحمتوں کے دریا موجیں مار رہے ہیں:

''جو شخص ہتھیار ڈال دے گا اس کے لئے امان ہے۔
1۔۔۔۔۔۔المواہب اللدنیۃ وشرح الزرقانی، باب غزوۃ الفتح الاعظم،ج۳،ص۴۰۵۔۴۰۹، ۴۱۲

2۔۔۔۔۔۔صحیح البخاری،کتاب المغازی، باب این رکز النبی صلی اللہ علیہ وسلم...الخ، 

الحدیث:۴۲۸۰، ج۳، ص۱۰۱،۱۰۲ملخصاً
Flag Counter