Brailvi Books

سیرتِ مصطفٰی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم
429 - 872
ہیں؟ یہ کن لوگوں کا لشکر ہے؟ اس کے بعد انصار کا لشکر پرانوار اتنی عجیب شان اور ایسی نرالی آن بان سے چلا کہ دیکھنے والوں کے دل دہل گئے۔ ابوسفیان نے اس فوج کی شان و شوکت سے حیران ہوکر کہا کہ اے عباس!یہ کون لوگ ہیں؟ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ یہ ''انصار'' ہیں ناگہاں انصار کے علمبردار حضرت سعد بن عبادہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ جھنڈا لئے ہوئے ابوسفیان کے قریب سے گزرے اور جب ابوسفیان کو دیکھا تو بلند آواز سے کہا کہ اے ابوسفیان
! اَلْیَوْمَ یَوْمُ الْمَلْحَمَۃِ الْیَوْمَ تُسْتَحَلُّ الْکَعْبَۃُ
آج گھمسان کی جنگ کا دن ہے۔ آج کعبہ میں خونریزی حلال کر دی جائے گی۔

ابوسفیان یہ سن کر گھبرا گئے اور حضرت عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے کہا کہ اے عباس!سن لو! آج قریش کی ہلاکت تمہیں مبارک ہو۔ پھر ابوسفیان کو چین نہیں آیا تو پوچھا کہ بہت دیر ہوگئی۔ ابھی تک میں نے محمد(صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم) کو نہیں دیکھا کہ وہ کون سے لشکر میں ہیں!اتنے میں حضور تاجدارِدوعالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم پرچم نبوت کے سائے میں اپنے نورانی لشکر کے ہمراہ پیغمبرانہ جاہ و جلال کے ساتھ نمودار ہوئے۔ ابوسفیان نے جب شہنشاہ کونین صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کو دیکھا تو چلاکر کہا کہ اے حضور!کیا آپ نے سنا کہ سعد بن عبادہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کیا کہتے ہوئے گئے ہیں؟ارشاد فرمایا کہ انہوں نے کیا کہا ہے؟ ابوسفیان بولے کہ انہوں نے یہ کہا ہے کہ آج کعبہ حلال کردیا جائے گا۔ آپ نے ارشاد فرمایا کہ سعد بن عبادہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے غلط کہا، آج تو کعبہ کی عظمت کا دن ہے۔ آج تو کعبہ کو لباس پہنانے کا دن ہے اور حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا کہ سعد بن عبادہ نے اتنی غلط بات کیوں کہہ دی۔ آپ نے ان کے ہاتھ سے جھنڈا لے کر ان کے بیٹے قیس بن سعد رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ہاتھ میں دے دیا۔
Flag Counter