| سیرتِ مصطفٰی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم |
مگر پھر اس کے بعد انہوں نے کلمہ پڑھ لیا اور اس وقت گو ان کا ایمان متزلزل تھا لیکن بعد میں بالآخر وہ سچے مسلمان بن گئے۔چنانچہ غزوه طائف میں مسلمانوں کی فوج میں شامل ہوکر انہوں نے کفار سے جنگ کی اور اسی میں ان کی ایک آنکھ زخمی ہوگئی۔ پھر یہ جنگ یرموک میں بھی جہاد کے لئے گئے۔(1)
(سیرت ابن ہشام ج ۲ص ۴۰۳وزرقانی ج۲ ص ۳۱۳)لشکراسلام کا جاہ و جلال
مجاہدین اسلام کا لشکر جب مکہ کی طرف بڑھا تو حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے حضرت عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے فرمایا کہ آپ ابوسفیان کو کسی ایسے مقام پر کھڑا کردیں کہ یہ افواج الٰہی کا جلال اپنی آنکھوں سے دیکھ لے۔ چنانچہ جہاں راستہ کچھ تنگ تھا ایک بلند جگہ پر حضرت عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ابوسفیان کو کھڑا کردیا۔ تھوڑی دیر کے بعد اسلامی لشکر سمندر کی موجوں کی طرح امنڈتا ہوا روانہ ہوا۔ اور قبائل عرب کی فوجیں ہتھیار سج سج کریکے بعد دیگرے ابوسفیان کے سامنے سے گزرنے لگیں۔ سب سے پہلے قبیلۂ غفار کا باوقار پرچم نظر آیا۔ ابوسفیان نے سہم کر پوچھا کہ یہ کون لوگ ہیں؟ حضرت عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا کہ یہ قبیلہ غفار کے شہسوار ہیں۔ ابوسفیان نے کہا کہ مجھے قبیلہ غفار سے کیا مطلب ہے؟ پھر جہینہ پھر سعد بن ھذیم، پھر سلیم کے قبائل کی فوجیں زرق برق ہتھیاروں میں ڈوبے ہوئے پرچم لہراتے اور تکبیر کے نعرے مارتے ہوئے سامنے سے نکل گئے۔ ابوسفیان ہر فوج کا جلال دیکھ کر مرعوب ہوہو جاتے تھے اورحضرت عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ہر فوج کے بارے میں پوچھتے جاتے تھے کہ یہ کون
1۔۔۔۔۔۔السیرۃ النبویۃ لابن ھشام، اسلام ابی سفیان بن الحارث...الخ،ص۴۶۹ ملخصاً