برمحل ہے۔ لیکن رسول کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم جن کو قرآن نے ''رء وف و رحیم'' کے لقب سے یاد کیا ہے۔ ان کی رحمت چمکارچمکار کر ابوسفیان کے کان میں کہہ رہی تھی کہ اے مجرم!مت ڈر۔ یہ دنیا کے سلاطین کا دربار نہیں ہے بلکہ یہ رحمۃ للعالمین صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی بارگاہ رحمت ہے۔ بخاری شریف کی روایت تویہی ہے کہ ابوسفیان بارگاہ اقدس میں حاضر ہوئے تو فوراً ہی اسلام قبول کرلیا۔ اس لئے جان بچ گئی۔ (1)
(بخاری ج۲ ص ۶۱۳باب این رکزالنبی رایۃ)
مگر ایک روایت یہ بھی ہے کہ حکیم بن حزام اور بدیل بن ورقاء نے تو فوراً رات ہی میں اسلام قبول کرلیا مگر ابوسفیان نے صبح کو کلمہ پڑھا۔(2) (زرقانی ج ۲ص۳۰۴)
اور بعض روایات میں یہ بھی آیا ہے کہ ابوسفیان اور حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے درمیان ایک مکالمہ ہوا اس کے بعد ابوسفیان نے اپنے اسلام کا اعلان کیا۔ وہ مکالمہ یہ ہے:
رسول اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم: کیوں اے ابوسفیان!کیا اب بھی تمہیں یقین نہ آیا کہ خدا ایک ہے؟
ابوسفیان: کیوں نہیں کوئی اورخداہوتاتوآج ہمارے کام آتا ۔
رسول اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم: کیا اس میں تمہیں کوئی شک ہے کہ میں اللہ کا رسول ہوں؟
ابوسفیان: ہاں! اس میں تو ابھی مجھے کچھ شبہ ہے۔