ہے۔ حضرت عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ابوسفیان بن حرب سے کہا کہ تم میرے خچر پر پیچھے سوار ہوجاؤ ورنہ اگر مسلمانوں نے تمہیں دیکھ لیا تو ابھی تم کو قتل کرڈالیں گے۔ جب یہ لوگ لشکرگاہ میں پہنچے تو حضرت عمررضی اللہ تعالیٰ عنہ اور دوسرے چند مسلمانوں نے جو لشکرگاہ کا پہرہ دے رہے تھے۔ ابوسفیان کو دیکھ لیا۔ حضرت عمررضی اللہ تعالیٰ عنہ اپنے جذبہ انتقام کو ضبط نہ کرسکے اور ابوسفیان کو دیکھتے ہی ان کی زبان سے نکلا کہ ''ارے یہ تو خدا کا دشمن ابوسفیان ہے۔'' دوڑتے ہوئے بارگاہ رسالت میں پہنچے اور عرض کیا کہ یارسول اللہ! (عزوجل وصلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم)ابوسفیان ہاتھ آگیا ہے۔ اگراجازت ہوتو ابھی اس کا سر اڑا دوں۔ اتنے میں حضرت عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ بھی ان تینوں مشرکوں کو ساتھ لئے ہوئے دربار رسول میں حاضر ہوگئے اور ان لوگوں کی جان بخشی کی سفارش پیش کردی اور یہ کہا کہ یارسول اللہ!(عزوجل وصلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم) میں نے ان سبھوں کو امان دے دی ہے۔ (1)