Brailvi Books

سیرتِ مصطفٰی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم
426 - 872
ہے۔ حضرت عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ابوسفیان بن حرب سے کہا کہ تم میرے خچر پر پیچھے سوار ہوجاؤ ورنہ اگر مسلمانوں نے تمہیں دیکھ لیا تو ابھی تم کو قتل کرڈالیں گے۔ جب یہ لوگ لشکرگاہ میں پہنچے تو حضرت عمررضی اللہ تعالیٰ عنہ اور دوسرے چند مسلمانوں نے جو لشکرگاہ کا پہرہ دے رہے تھے۔ ابوسفیان کو دیکھ لیا۔ حضرت عمررضی اللہ تعالیٰ عنہ اپنے جذبہ انتقام کو ضبط نہ کرسکے اور ابوسفیان کو دیکھتے ہی ان کی زبان سے نکلا کہ ''ارے یہ تو خدا کا دشمن ابوسفیان ہے۔'' دوڑتے ہوئے بارگاہ رسالت میں پہنچے اور عرض کیا کہ یارسول اللہ! (عزوجل وصلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم)ابوسفیان ہاتھ آگیا ہے۔ اگراجازت ہوتو ابھی اس کا سر اڑا دوں۔ اتنے میں حضرت عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ بھی ان تینوں مشرکوں کو ساتھ لئے ہوئے دربار رسول میں حاضر ہوگئے اور ان لوگوں کی جان بخشی کی سفارش پیش کردی اور یہ کہا کہ یارسول اللہ!(عزوجل وصلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم) میں نے ان سبھوں کو امان دے دی ہے۔ (1)
ابوسفیان کا اسلام
ابوسفیان بن حرب کی اسلام دشمنی کوئی ڈھکی چھپی چیز نہیں تھی۔ مکہ میں رسول کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کو سخت سے سخت ایذائیں دینی، مدینہ پر بار بار حملہ کرنا، قبائل عرب کو اشتعال دلاکر حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے قتل کی بارہا سازشیں، یہودیوں اور تمام کفارعرب سے سازباز کرکے اسلام اور بانی اسلام کے خاتمہ کی کوششیں یہ وہ ناقابل معافی جرائم تھے جو پکار پکار کرکہہ رہے تھے کہ ابوسفیان کا قتل بالکل درست و جائز اور
1۔۔۔۔۔۔مدارج النبوت،قسم سوم، باب ہفتم، فتح مکہ،ج۲، ص۲۸۱،۲۸۲

وشرح الزرقانی علی المواھب، باب غزوۃ الفتح الاعظم،ج۳، ص۴۱۸ مختصراً
Flag Counter