| سیرتِ مصطفٰی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم |
پیاس سے تڑپ تڑپ کر میں اور میرے سب بچے مر کر فنا ہوجائیں۔ حضرت بی بی اُمِ سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے بارگاہ رسالت میں آبدیدہ ہوکر عرض کیا کہ یارسول اللہ! (عزوجل وصلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم) کیا آپ کے چچا کا بیٹا اور آپ کی پھوپھی کا بیٹا تمام انسانوں سے زیادہ بدنصیب رہے گا؟ کیا ان دونوں کو آپ کی رحمت سے کوئی حصہ نہیں ملے گا؟ جان چھڑکنے والی بیوی کے ان درد انگیز کلمات سے رحمۃ للعالمین صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے رحمت بھرے دل میں رحم و کرم اور عفوودرگزر کے سمندر موجیں مارنے لگے۔ پھر حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ان دونوں کو یہ مشورہ دیا کہ تم دونوں اچانک بارگاہ رسالت میں سامنے جاکر کھڑے ہوجاؤ اور جس طرح حضرت یوسف علیہ السلام کے بھائیوں نے کہا تھا وہی تم دونوں بھی کہو کہ
قَالُوۡا تَاللہِ لَقَدْ اٰثَرَکَ اللہُ عَلَیۡنَا وَ اِنۡ کُنَّا لَخٰطِئِیۡنَ ﴿۹۱﴾ (1)
کہ یقینا آپ کو اللہ تعالیٰ نے ہم پر فضیلت دی ہے اور ہم بلاشبہ خطاوار ہیں۔ چنانچہ ان دونوں صاحبوں نے درباررسالت میں ناگہاں حاضر ہوکر یہی کہا۔ ایک دم رحمت عالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی جبینِ رحمت پر رحم و کرم کے ہزاروں ستارے چمکنے لگے اور آپ نے ان کے جواب میں بعینہٖ وہی جملہ اپنی زبانِ رحمت نشان سے ارشاد فرمایا جو حضرت یوسف علیہ السلام نے اپنے بھائیوں کے جواب میں فرمایا تھاکہ
قَالَ لَا تَثْرِیۡبَ عَلَیۡکُمُ الْیَوْمَ ؕ یَغْفِرُ اللہُ لَکُمْ ۫ وَہُوَ اَرْحَمُ الرّٰحِمِیۡنَ ﴿۹۲﴾ (2)
آج تم سے کوئی مواخذہ نہیں ہے اللہ تمہیں بخش دے۔وہ ارحم الر احمین ہے جب قصور معاف ہوگیا تو ابوسفیان بن الحارث رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے تاجدار
1۔۔۔۔۔۔پ۱۳،یوسف:۹۱ 2۔۔۔۔۔۔پ۱۳،یوسف:۹۲