| سیرتِ مصطفٰی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم |
دوعالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی مدح میں اشعار لکھے اور زمانہ جاہلیت کے دور میں جو کچھ آپ کی ہجو میں لکھا تھا اس کی معذرت کی اور اس کے بعد عمر بھر نہایت سچے اور ثابت قدم مسلمان رہے مگر حیاء کی و جہ سے رسول اللہ عزوجل و صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے سامنے کبھی سر نہیں اٹھاتے تھے اور حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم بھی ان کے ساتھ بہت زیادہ محبت رکھتے تھے اور فرمایا کرتے تھے کہ مجھے امید ہے کہ ابوسفیان بن الحارث میرے چچا حضرت حمزہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے قائم مقام ثابت ہوں گے۔ (1)
(زرقانی ج ۲ص ۳۰۱ تا ص ۳۰۲و سیرت ابن ہشام ج ۲ ص ۴۰۰)میلوں تک آگ ہی آگ
مکہ سے ایک منزل کے فاصلہ پر ''مرالظہران'' میں پہنچ کر اسلامی لشکر نے پڑاؤ ڈالا اور حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے فوج کو حکم دیا کہ ہر مجاہد اپنا الگ الگ چولہا جلائے۔ دس ہزار مجاہدین نے جو الگ الگ چولہے جلائے تو ''مرالظہران'' کے پورے میدان میں میلوں تک آگ ہی آگ نظر آنے لگی۔(2)
قریش کے جاسوس
گو قریش کو معلوم ہی ہوچکا تھا کہ مدینہ سے فوجیں آرہی ہیں۔ مگر صورت حال کی تحقیق کے لئے قریش نے ابوسفیان بن حرب، حکیم بن حزام و بدیل بن ورقاء کو اپنا جاسوس بناکر بھیجا۔ حضرت عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ بے حد فکرمند ہوکر قریش کے انجام پر افسوس کررہے تھے۔ وہ یہ سوچتے تھے کہ اگر رسول اللہ عزوجل و صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم اتنے عظیم لشکر کے ساتھ مکہ میں فاتحانہ داخل ہوئے تو آج قریش کا خاتمہ ہوجائے گا۔ چنانچہ
1۔۔۔۔۔۔المواھب اللدنیۃمع شرح الزرقانی،باب غزوۃ الفتح الاعظم، ج۳،ص۳۹۹۔۴۰۲ 2۔۔۔۔۔۔المواھب اللدنیۃ وشرح الزرقانی،باب غزوۃ الفتح الاعظم، ج۳،ص۴۰۳