Brailvi Books

سیرتِ مصطفٰی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم
422 - 872
حضرت عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ وغیرہ سے ملاقات
جب حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم مقام ''جحفہ'' میں پہنچے تو وہاں حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے چچا حضرت عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ اپنے اہل و عیال کے ساتھ خدمت اقدس میں حاضر ہوئے۔ یہ مسلمان ہوکر آئے تھے بلکہ اس سے بہت پہلے مسلمان ہوچکے تھے اور حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی مرضی سے مکہ میں مقیم تھے اور حجاج کو زمزم پلانے کے معزز عہدہ پر فائز تھے اور آپ کے ساتھ میں حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے چچا حارث بن عبدالمطلب کے فرزند جن کا نام بھی ابوسفیان تھا اور حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے پھوپھی زاد بھائی عبداللہ بن ابی امیہ جواُم المؤمنین حضرت بی بی اُمِ سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے سوتیلے بھائی بھی تھے بارگاہ اقدس میں حاضر ہوئے ان دونوں صاحبوں کی حاضری کا حال جب حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کو معلوم ہوا تو آپ نے ان دونوں صاحبوں کی ملاقات سے انکار فرما دیا۔ کیونکہ ان دونوں نے حضورصلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کو بہت زیادہ ایذائیں پہنچائی تھیں۔ خصوصاً ابوسفیان بن الحارث آپ کے چچازاد بھائی جو اعلان نبوت سے پہلے آپ کے انتہائی جاں نثاروں میں سے تھے مگر اعلان نبوت کے بعد انہوں نے اپنے قصیدوں میں اتنی شرمناک اور بیہودہ ہجو حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی کر ڈالی تھی کہ آپ کا دل زخمی ہوگیا تھا۔ اس لئے آپ ان دونوں سے انتہائی ناراض و بیزار تھے مگر حضرت بی بی ام سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے ان دونوں کا قصور معاف کرنے کے لئے بہت ہی پرزور سفارش کی اور ابوسفیان بن الحارث نے یہ کہہ دیا کہ اگر رسول اللہ عزوجل وصلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے میرا قصور نہ معاف فرمایا تو میں اپنے چھوٹے چھوٹے بچوں کو لے کر عرب کے ریگستان میں چلا جاؤں گا تاکہ وہاں بغیر دانہ پانی کے بھوک
Flag Counter