| سیرتِ مصطفٰی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم |
ہمیں منظور ہے اور ہم اعلان کرتے ہیں کہ حدیبیہ کا معاہدہ ٹوٹ گیا۔'' لیکن قاصد کے چلے جانے کے بعد قریش کو اپنے اس جواب پر ندامت ہوئی۔ چنانچہ چند رؤسائے قریش ابوسفیان کے پاس گئے اور یہ کہا کہ اگر یہ معاملہ نہ سلجھا تو پھر سمجھ لو کہ یقینا محمد (صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم) ہم پر حملہ کردیں گے۔ ابوسفیان نے کہا کہ میری بیوی ہندبنت عتبہ نے ایک خواب دیکھا ہے کہ مقام '' حجون '' سے مقام ''خندمہ'' تک ایک خون کی نہر بہتی ہوئی آئی ہے، پھر ناگہاں وہ خون غائب ہوگیا۔ قریش نے اس خواب کو بہت ہی منحوس سمجھا اور خوف و دہشت سے سہم گئے اور ابوسفیان پر بہت زیادہ دباؤ ڈالا کہ وہ فوراً مدینہ جاکر معاہدہ حدیبیہ کی تجدید کرے۔ (1)(زرقانی ج۲ ص ۲۹۲)
ابوسفیان کی کوشش
اس کے بعد بہت تیزی کے ساتھ ابوسفیان مدینہ گیا اور پہلے اپنی لڑکی حضرت اُم المؤمنین بی بی ام حبیبہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے مکان پر پہنچااور بستر پر بیٹھنا ہی چاہتا تھا کہ حضرتِ بی بی اُمِ حبیبہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے جلدی سے بستر اٹھا لیا ابوسفیان نے حیران ہوکر پوچھا کہ بیٹی تم نے بستر کیوں اٹھالیا؟ کیا بستر کو میرے قابل نہیں سمجھا یا مجھ کو بستر کے قابل نہیں سمجھا؟ اُم المؤمنین نے جواب دیا کہ یہ رسول اللہ عزوجل وصلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کا بستر ہے اور تم مشرک اور نجس ہو۔ اس لئے میں نے یہ گوارا نہیں کیا کہ تم رسول اللہ عزوجل و صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے بستر پر بیٹھو۔ یہ سن کر ابوسفیان کے دل پر چوٹ لگی اور وہ رنجیدہ ہوکر وہاں سے چلا آیا اور رسول اللہ عزوجل و صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوکر اپنا مقصد بیان کیا۔ آپ نے کوئی جواب نہیں دیا۔ پھر ابوسفیان
1۔۔۔۔۔۔المواھب اللدنیۃمع شرح الزرقانی، باب غزوۃ الفتح الاعظم، ج۳،ص۳۸۴