حضرت ابوبکر صدیق و حضرت عمر وحضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہم کے پاس گیا۔ ان سب حضرات نے جواب دیا کہ ہم کچھ نہیں کرسکتے۔ حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس جب ابوسفیان پہنچا تو وہاں حضرت بی بی فاطمہ اور حضرت امام حسن رضی اللہ تعالیٰ عنہما بھی تھے۔ ابوسفیان نے بڑی لجاجت سے کہا کہ اے علی!تم قوم میں بہت ہی رحم دل ہو ہم ایک مقصد لے کر یہاں آئے ہیں کیا ہم یوں ہی ناکام چلے جائیں۔ ہم صرف یہی چاہتے ہیں کہ تم محمد(صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم) سے ہماری سفارش کردو۔ حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ اے ابوسفیان!ہم لوگوں کی یہ مجال نہیں ہے کہ ہم حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے ارادہ اور ان کی مرضی میں کوئی مداخلت کرسکیں۔ ہر طرف سے مایوس ہوکر ابوسفیان نے حضرت فاطمہ زہراء رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے کہا کہ اے فاطمہ!یہ تمہارا پانچ برس کا بچہ(امام حسن) ایک مرتبہ اپنی زبان سے اتنا کہہ دے کہ میں نے دونوں فریق میں صلح کرا دی تو آج سے یہ بچہ عرب کا سردار کہہ کر پکارا جائے گا۔ حضرت بی بی فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے جواب دیا کہ بچوں کو ان معاملات میں کیا دخل؟ بالآخر ابوسفیان نے کہا کہ اے علی!معاملہ بہت کٹھن نظر آتا ہے کوئی تدبیر بتاؤ؟ حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ میں اس سلسلے میں تم کو کوئی مفید رائے تو نہیں دے سکتا۔ لیکن تم بنی کنانہ کے سردار ہو تم خود ہی لوگوں کے سامنے اعلان کردو کہ میں نے حدیبیہ کے معاہدہ کی تجدید کردی ابوسفیان نے کہا کہ کیا میرا یہ اعلان کچھ مفید ہوسکتا ہے؟ حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ یک طرفہ اعلان ظاہر ہے کہ کچھ مفید نہیں ہوسکتا۔ مگر اب تمہارے پاس اس کے سوا اور چارهٔ کار ہی کیا ہے؟ ابوسفیان وہاں سے مسجد نبوی میں آیا اور بلند آواز سے مسجد میں اعلان کردیا کہ میں نے معاہدہ حدیبیہ کی تجدید کردی مگر مسلمانوں میں سے